سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 435 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 435

۴۳۵ دو چار دوست مل کر پھل پھول خرید لیا کریں اور پھر مفت چھوڑ دیا کریں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تمام پھل پھول تنہا خرید کر مفت چھوڑ دینے کی خواہش۔حضرت اقدس نے ان کو شرکت خریدار ارشاد فرمایا تھا انہوں نے سارے کا سارا خرید لینے کا ارادہ ظاہر کیا وغیرہ وغیرہ اذکا رر ہے۔تفصیل نہیں لکھتا۔فرمایا بعض اذکار پر کہ نہر پر موڑ کے کنویں پر جہاں ہمیشہ سے دعائیں ہوتی ہیں آرام کے سامان ہونے چاہیں تا کہ مسافر سکھ پائیں۔رات آ جائے تو رہ سکیں۔پانی کا اچھا اور ستھرا انتظام ہو بلکہ موڑ والے کنوئیں کے متعلق تو بعض خاص باتیں بھی فرما ئیں جن کا اعلان ابھی مناسب نہیں۔اس قطعہ کو خرید کر محفوظ کر لینے کی خواہش تھی ) اٹلی کے چند پادری اسی جہاز سے ہندوستان جارہے ہیں ان کا ذکر ہوا۔فرمایا وہ ہندوستان کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا منشا کچھ اور ہی ہے جس سے وہ بے چارے بے خبر ہیں۔کھانا حضور میز پر تناول فرماتے ہیں۔چار یا پانچ انگریز حضور کے میز پر اور بھی بیٹھے ہیں۔پہلے ان جہاز والوں نے حضور کا میزا الگ بچھایا تھا مگر حضور نے اس کو نا پسند فرمایا۔تب انہوں نے دوسرے مسافروں کے ساتھ حضور کا میز لگا دیا۔ظہر اور عصر کی نمازیں حضور نے جمع کرا کے پڑھا ئیں اور پھر شام تک یہیں تشریف فرما ر ہے کیونکہ نماز کے بعد حضور کو کچھ حرارت سی ہو گئی اور حضور ہمارے چبوترہ پر بیٹھے رہے اور شام اور عشاء کی نمازیں پڑھانے کے بعد شام کے کھانے کے واسطے تشریف لے گئے۔اب کی مرتبہ جہاز میں زندہ مرغیاں جہاز والوں سے رکھوالی تھیں۔ہم لوگ خود ذبح کرتے ہیں اور حضور کا اور حضور کے خدام سیکنڈ کلاس کا کھانا الگ باورچی خالص مکھن سے تیار کرتا ہے اور بہت احتیاط سے کام ہوتا ہے۔پہلی مرتبہ ان باتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف ہوتی تھی۔سوائے گوبھی اور گھاس کے پتوں کے اور کچھ نہ کھاتے تھے یا آلو تھے اور بس۔حضور کھانے کے بعد پھر تشریف لائے اور ایک گھنٹہ کے قریب ڈیک پر ٹہلتے پھرتے رہے۔سمندر صاف ہے تموج بالکل نہیں۔نہایت امن اور اطمینان سے جہاز جا رہا ہے۔چاند کی