سفر یورپ 1924ء — Page 436
۴۳۶ روشنی ان دنوں سمندر میں کیا بھلی معلوم دیتی ہیں۔سب دوست اللہ کے فضل سے اچھے ہیں۔عملہ جہاز بھی پہلا قریباً قریبا بدل چکا ہے۔نئے لوگ ہیں اصلی کپتان جہاز کا جو رخصت پر گیا ہوا تھا اب آگیا ہے۔اچھا آدمی ہے۔دوسرے ماتحت ملازم بھی اچھے ہیں اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب کے ہم لوگوں کو ہر طرح کا آرام اور سہولت میسر ہے۔موسم بھی چنداں سرد نہیں ہندوستان کا اکتو بر معلوم ہوتا ہے۔۴ / نومبر ۱۹۲۴ء : علی الصباح ۴ بجے سے بھی پہلے جہاز نے وسل شروع کئے۔ایک دو تین چار پانچ چھٹی کہ تیرہ تک میں نے گنے اور پھر چھوڑ دیئے۔پہلے اندیشہ ہوا کہ کوئی خطرہ ہے ورنہ اس قدر لگا تار وسلوں کی کیا ضرورت مگر جہاز والوں میں کوئی گھبراہٹ تھی نہ فکر اندیشہ اس وجہ سے سمجھے کہ برنڈ زی قریب ہے اور جہاز لائن کلیئر مانگتا ہے چنانچہ یہی بات نکلی۔آج گہر بہت زیادہ ہے اور دھواں دھار ہونے کی وجہ سے چند قدم کی چیز بھی نظر نہیں آتی اسی وجہ سے غالباً جہاز نے اتنے وسل کئے اور پورٹ میں اطلاع دی کہ مبادا کوئی دوسرا جہاز آ کر ٹکرا جائے -۴ بجے سے ۸ بجے کے بعد تک جہاز پورٹ سے باہر کھڑا رہا۔آخر آٹھ بجے کے بعد پائلٹ آیا اور جہاز کو پورٹ میں لے کر گیا۔جہاز کنارے لگا اور اسی مقام پر ٹھہرا جہاں پہلی مرتبہ حضور کو انگلستان جاتے ہوئے اُتارا تھا۔حضور نے دوستوں کو جمع ہونے کا حکم دیا اور بالکل اسی جگہ کھڑے ہوکر دعا کی جہاں پہلی مرتبہ بیٹھ کر کی تھی۔لمبی دعاؤں کے بعد حضور نے خدام کو نیچے اُترنے کی اجازت دی اور خود بھی برنڈ زی کے بازار میں تشریف لے گئے جہاں جاتے ہوئے حضرت میاں صاحب نے چلتے چلتے فوٹو بھی لے لیا۔جہاز سے حضورا بھی اُترے نہ تھے کہ قادیان کا تار ملا جس میں مکرم حضرت مولانا مولوی میر محمد سعید صاحب حیدر آباد دکن اور برا در مسٹر لائی صاحب سیلون کی وفات کا ذکر تھا۔انا للہ و انا اليه راجعون - اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کو غریق رحمت کرے اور جنت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ٹھیک سو بارہ بجے جہاز برنڈزی سے پورٹ سعید کو روانہ ہو گیا۔حضور کو کھانسی اور کسی قدر حرارت کی تکلیف تھی مگر پھر بھی صبح ، ظہر و عصر اور شام و عشاء پانچوں نماز میں حضور نے باہر ہی آکر پڑھائیں اور خدام کی مجلس میں تشریف فرما بھی رہے۔شام کے کھانے کے بعد حضور نے چند ہندوستانی جنٹل مینوں کو سلسلہ کے حالات کھول کر سنائے جس کے لئے وہ کل سے حضور کی خدمت