سفر یورپ 1924ء — Page 413
۴۱۳ خوشی سے دے دیا اور اس طرح سے بجائے چند پیسوں کے بہت شکریہ اور بڑے اجر کے مستحق بنے۔اب یہ اخبار میرے پاس موجود ہے جو انشاء اللہ اسی عریضہ کے ساتھ پیش خدمت کروں گا۔نہ معلوم اور کتنے اخبارات نے ذکر کیا جن کا ہمیں علم نہ ہو سکا۔۳۱ اکتوبر ۱۹۲۴ء : دیلورب کے اسٹیشن پر پہنچتے ہی واقف کار لوگ اپنا پنا سامان سنبھال سنبھال کر اُٹھے اور گاڑی سے نکل گئے مگر بعض لوگ ہماری طرح بیٹھے بھی رہے۔اس وجہ سے ہمیں خیال ہوا کہ وہ لوگ اسی جگہ اُترنے والے تھے ان کا سٹیشن آ گیا اور اُتر گئے مگر تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور باتوں سے اشاروں میں ہمیں گاڑی چھوڑنے کیلئے کہتا رہا مگر ہم اس کی کوئی نہ سمجھے اور اپنی گاڑی میں بیٹھے رہے البتہ بعض دوسرے مسافر جو باقی تھے وہ اُتر گئے۔ان کے اترنے سے ہمیں بھی گھبراہٹ ہوئی۔پلیٹ فارم پر ٹہلنے والے دوستوں سے چند مرتبہ پوچھا کہ ہم انتر آویں مگر انہوں نے ہمیں بیٹھے رہنے کی تاکید کی کیونکہ ہمیں جو ہدایات پیرس سے چلتے وقت دی گئی تھیں ان میں اس مقام پر کوئی چینج نہ بتایا گیا تھا۔انجن آیا اور گاڑی کاٹ کر ایک طرف لے گیا مگر ہم پھر بھی اطمینان سے بیٹھے رہے۔یہ خیال ہوا کہ شاید کوئی دوسری گاڑی لگا کر ہمیں بھی لے جائے گا مگر وہ ایسا گیا کہ پھر لوٹنے کا نام نہ لیا۔ہم بھاگے دوڑے اور پھر دوستوں سے کہا کہ ٹھیک معلوم کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔آخر معلوم ہوا کہ وہ کمپارٹمنٹ کٹ جانے والا تھا کٹ گیا لہذا اب ہمیں دوسری گاڑی میں جانا چاہئے۔پیرس میں جو خطرہ نہ دیکھا تھا اور جو گھبراہٹ وہاں بھی نہ ہوئی تھی اس مقام پر اس کا بھی سامنا ہوا اور وہ یہ تھا کہ حضرت اقدس کی گاڑی جاتی ہوئی نظر آتی تھی اور ہمیں پیچھے رہ جانے کا اندیشہ دامنگیر تھا۔پیرس میں خطرہ تھا تو سب کے رہ جانے کا۔مگر یہاں خطرہ ایسا تھا جس کی تاب نہ تھی اور اس کا خیال بھی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے کئے دیتا تھا کہ سیدنا حضرت اقدس تشریف لے جائیں اور ہم غلام ہمر کاب نہ ہوں مگر خدا نے خیر کی سب دوست بھاگے لیکے اور دوڑے اور ہاتھوں ہاتھ تمام گاڑی خالی کر کے دوسری میں جا پہنچے۔بارش ہو رہی تھی بھیگے بھی تھکے بھی پسینہ میں بھی تر بتر ہوئے مگر خدا نے فضل کیا کہ کام ہو گیا اور خطرہ عظیمہ سے بچاؤ ہو گیا۔گاڑی وہاں کی چلی ہوئی لوزان (Lausanne) کے سٹیشن پر پہنچی جہاں معاہدہ ترکیہ پر