سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 412 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 412

۴۱۲ سب کو جمع کیا گیا۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری جن کے سپر دسامان کا سپر وین(supervision) تھا وہ سامان کو چیک کر چکے اور ہوش سنبھالی۔تب وہ دوست جن کو کام کی وجہ سے شام کا کھانا کھانے کا پیرس میں موقع نہ ملا تھا کھانے کے لئے بے قرار ہوئے۔ان کو کھانا دیا گیا اور طبائع ایک سے دوسری طرف متوجہ ہوئیں۔دوسرے مسافروں سے بات چیت کرنے کی کوشش شروع ہوئی اور جوش تبلیغ کا ولولہ اُٹھا اور اصل کام کا سلسلہ شروع ہوا۔میرے کمرے میں تین فرانسیسی مرد اور ایک عورت بیٹھے تھے۔ان کے ہاتھ میں ایک اخبار فرنچ زبان کا تھا وہ اس کو پڑھتے اور ہماری طرف دیکھتے تھے اور بار بار دیکھتے تھے۔ان ا کے ان حرکات سے ہم نے سمجھا کہ کچھ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ان سے باتوں کی کوشش کی۔اشارے کئے۔حرکات سے باتیں سمجھانے کی کوشش کی مگر نہ معلوم ہم کیا بتاتے تھے اور وہ کیا سمجھتے تھے۔آخر ان سے بھی نہ رہا گیا اور اخبار ہماری طرف بڑھا کر ایک فوٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اشارہ سے پوچھا کہ یہ شخص تم میں سے کونسا ہے؟ وہ فوٹو حضرت اقدس کا تھا جو ایک فرینچ اخبار نے شائع کر کے حضور کے حالات کا مختصر سا خلاصہ نیچے دیا ہوا تھا۔وہ حالات ان کو اس انسان کے دیکھنے اور معلوم کرنے کا شوق دلاتے تھے۔یہ اشارہ ان کا ہم بھی سمجھ گئے اور ان کو اشاروں ہی اشاروں میں بتایا کہ وہ انسان جس کا یہ فوٹو ہے خدا کا ایک بہت بڑا پیارا انسان ہے۔ہم سب اس کے غلام ہیں اور وہ مع چند اور خدام کے اول درجہ کی گاڑی میں ہے۔علامت یہ ہے کہ سفید عمامہ حضور نے پہنا ہوا ہے۔ہماری ان باتوں سے ان کو گو نہ تسلی ہوئی۔معلوم ہوتا تھا کہ ایک طرف وہ اس اخبار میں حضور کی بزرگی اور بلند مرتبت کا ذکر پڑھتے تھے دوسری طرف وہ حضور کو ہم میں دیکھتے نہ تھے۔اتنا بتانے سے ان کو تشفی ہوئی اور یقیناً اُترتی مرتبہ تو حضور کی زیارت سے مشرف ہو کر بھی گئے ہوں گے کیونکہ ان کے چہروں سے جو کچھ پڑھا جا سکتا تھا وہ یہی تھا کہ وہ اس ہستی کی زیارت کے لئے بے قرار و بے تاب ہیں۔یہ فرانس کے دارالخلافہ کا چوتھا اخبار تھا جس نے حضرت اقدس کے متعلق کچھ لکھا۔تین کا تو ہمیں پہلے علم ہو چکا تھا اور خرید چکے تھے مگر اس کا کوئی پر چہ ہمارے پاس نہ تھا۔میں نے جیب سے مٹھی بھر فرانک نکال کر ان کے آگے کئے اور اخبار لینا چاہا مگر انہوں نے پیسے قبول نہ کئے اور اخبار