سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 396 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 396

۳۹۶ خیالات بتائے گئے ہیں کہ فرقہ بندی کے نام سے ہی چونک اُٹھتے ہیں اور پھر ان کے مفاد وابستہ ہیں بہت کچھ ان غیر احمدیوں سے جہاں سے ان کو وظائف اور گزارے بھی ملتے ہیں مگر خدا نے دلوں پر تصرف کیا اور اب وہ خدا کے فضل سے بہت ہی قریب آ گیا ہے۔خدا کرے کہ اس کو حق کے قبول کی توفیق بانشراح صدر مل جائے۔کام کا آدمی اور مخلص مسلمان ہے۔برسلز میں بھی خدا نے مفتی صادق صاحب کی کوشش کا پھل پیدا کر دیا ہے اور ایک خط بیعت کا حضرت اقدس کے حضور پہنچا ہے اور اظہا را خلاص کیا گیا ہے۔پردہ ،مصافحہ وغیرہ مسائل بھی صاف ہو چکے معلوم ہوتے ہیں۔ہالینڈ اور بیلجئیم دونوں میں خدا نے جماعت کے پودے لگا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کو جزائے خیر دے آمین۔حافظ صاحب اور عرفانی صاحب نے دو کنگ کے بھی بعض حالات عرض کئے مگر حضور کا منشا نہیں کہ ان کو لکھا جائے اس وجہ سے میں نہیں لکھتا۔حضور ایک بجے کے بعد ہی تشریف لے گئے ہیں۔فرماتے تھے کہ دماغ میں ایسی تھکان اب سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔اب تو دماغ پر ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے اور بعض اوقات بالکل ڈل ہو گیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔آنکھوں کی بینائی میں بھی بڑا فرق نظر آتا ہے۔دوست چاہتے تھے کہ جلسہ مارچ میں کر دیا جائے مگر مجھے چوہدری صاحب ( ظفر اللہ خان صاحب) کی رائے پسند ہے۔وہ کہتے تھے کہ اس میں فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا کیونکہ میری واپسی پر لوگ خواہ مخواہ ملاقات کو تو آئیں گے ہی اور پھر ایام دسمبر میں چونکہ رخصتیں ہوں گی۔تب بھی آئیں گے۔جن کو اب فرصت نہ ہوگی وہ اس وقت آجائیں گے۔تو فراغت اور آرام تو ملے گا نہیں البتہ جلسے دو بن کر محنت دوہری ہو جائے گی۔لہذا اب تو یہی خیال ہے کہ کسی طرح سے جلسہ گزر جائے تو آرام کریں گے مگر جلسہ کے بعد ہمیشہ ہی ایسا خیال ہوا کرتا ہے آرام کا موقع کم ہی ملتا ہے۔کوئی نہ کوئی کام ضروری بلکہ اشد ضروری نکلتے ہی رہتے ہیں۔فرمایا نیند بہت ہی کم ہوگئی ہے۔ایک بجے کے بعد کمرے میں تشریف لے گئے۔حافظ صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھے حکم دیں تو میں روزانہ سیر کو لے جایا کروں۔فرمایا جس وقت آپ مجھے سیر کرنے کو لے جانا چاہتے ہیں اس وقت تو میری حالت ایسی ہوتی ہے کہ میں نماز کو بھی نہیں آ سکتا۔ایک دن دلیری کر کے آیا تھا