سفر یورپ 1924ء — Page 395
۳۹۵ شاید اتنا بھی رہ جایا کرے کیونکہ وہ تو بہت بڑا کام ہے۔غرض اس عورت نے تسلیم کیا اور بہت اچھے خیالات اور مفید اثر لے کر گئی۔جاتے جاتے بھی رات عورتوں نے ایک گھنٹہ راستہ میں حضرت اقدس کو کھڑا کر لیا اور بہت محبت اور اخلاص اور حیا اور ادب سے عرض معروض کرتی رہیں۔حضور نے بعض زیادہ جوشیلی عورتوں کو کتابوں کی صورت میں بھی تحفے دیئے۔بعض نے کتا ہیں خرید بھی لیں۔ایک حبشی عورت بہت حصہ لیتی ہیں۔مسز بین شاید ان کا نام ہے۔انہوں نے حضرت کی دعوت چائے بھی کی تھی اور اپنے ملک کی بہتری کے لئے حضور کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ا اس نے رات حضرت اقدس کی خدمت میں پھر یاد دہانی کرائی اور عرض کیا کہ میرے ملک کی بہتری کے واسطے بھی امید کہ حضور کو ضرور توجہ ہوگی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہاں جو کچھ میری طاقت میں ہے سب کچھ کروں گا۔I will do all that is in my power۔اس فقرہ کو سن کر وہ بہت ہی خوش ہوئی اور شکریہ ادا کیا مگر حضرت اقدس نے ساتھ ہی فرمایا کہ تم کو ملک کی بہتری کا تو خیال ہے مگر اپنی بہتری کا بالکل خیال نہیں ؟ تم ہمسایہ کے گھر کی لگی ہوئی آگ کو تو بجھانے کے خواہاں ہو مگر اپنے گھر کی آگ کی پرواہ نہیں کرتے (انگریزی میں تھا ) تب اس نے عرض کیا کہ میں غور کر رہی ہوں اور مطالعہ کر رہی ہوں مجھے خود اپنی بھی فکر لگ گئی ہے۔اب میں بے فکر نہیں رہی۔حضرت اقدس نے فرمایا تو وہ وقت ابھی ہے۔اس کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہیے ایسا نہ ہو کہ غور و فکر کا زمانہ ہی ایسا لمبا ہو جائے کہ جس کے بعد پھر یہ غور و فکر کچھ نفع نہ دے سکے۔اس نے پھر ادب سے اخلاص کا اظہار کیا اور رخصت لے کر چلی گئی۔( عیسائی ہے اس کو بہت ہی خوبصورت رنگ میں تبلیغ فرمائی ) ایک اور لیڈی بہت ہی شریف پوسٹ آفس کی ملازمہ بہت دیر تک حضرت اقدس۔باتیں کرتی رہی اور بڑا اخلاص لے کر گئیں۔ڈاکٹر لیون کے متعلق خیال تھا کہ آج کے مضمون سے چمکے گا مگر خدا تعالیٰ کے تصرفات کا کون احاطہ کر سکتا ہے اسی نے سب سے زیادہ اخلاص کا اظہار کیا اور بہت ہی قریب آ گیا ہے اور دوسری طرف سے قریباً الگ ہو چکا ہے۔دراصل ان لوگوں کو ایسے