سفر یورپ 1924ء — Page 366
۳۶۶ چار ہزار دشمن تیراندازوں کے اندر صرف ۱۶ آدمیوں سمیت رہ گئے باقی سب لشکر پراگندہ ہو گیا۔آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا جو ساتھی باقی رہ گئے تھے وہ گھبرا گئے اور اُتر کر آپ کے گھوڑے کی باگیں پکڑلیں اور کہا کہ جناب اس وقت دشمن فاتحانہ بڑھا چلا آ رہا ہے اسلامی لشکر بھاگ چکا ہے۔آپ کی جان پر اسلام کا مدار ہے پیچھے ہٹئے تا کہ اسلامی لشکر کو جمع ہونے کا موقع ملے۔آپ نے فرمایا کہ میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور پھر بلند آواز سے کہا کہ میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں ، کون ہے جو مجھے نقصان پہنچا سکے یہ کہہ کر دشمن کے لشکر کی طرف ان سولہ آدمیوں سمیت جو پیچھے رہ گئے تھے بڑھنا شروع کیا مگر دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا سکا۔پھر آپ نے ایک شخص کو جو بلند آواز والا تھا کہا کہ بلند آواز سے کہو کہ اے اہل مدینہ خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ایک صحابی کہتا ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ اس وقت سخت ڈرے ہوئے تھے اور بھاگے جاتے تھے۔ہم ان کو واپس موڑتے تھے اور وہ مڑتے نہ تھے۔جس وقت یہ آواز آئی اس وقت یکدم ہماری حالت ایسی ہوگئی کہ گویا ہم مُردہ ہیں اور خدا کی آواز ہمیں بلاتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ اس آواز کے آتے ہی میں بے تاب ہو گیا میں نے اپنے اونٹ کو واپس لے جانا چاہا مگر وہ باگ کے کھینچنے سے دوہرا ہو جاتا تھا مگر مڑتا نہ تھا۔میرے کان میں یہ آواز گونج رہی تھی کہ خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔جب میں نے دیکھا کہ اونٹ مجھے دور ہی دور لئے جاتا ہے تو میں نے تلوار نکال کر اس کی گردن کاٹ دی اور پیدل دیوانہ وار اس آواز کی طرف بھاگ پڑا اور بے اختیار کہتا جاتا تھا کہ حاضر ہوں حاضر ہوں۔وہ کہتا ہے یہی حال سب لشکر کا تھا جو سواری کو موڑ سکا وہ اس کو موڑ کر آپ کے پاس آ گیا اور جو سواری کو نہ موڑ سکا وہ سواری سے کود کر پیدل دوڑ پڑا جو یہ بھی نہ کر سکا اس نے سواری کو قتل کر دیا اور آپ کی طرف دوڑ پڑا اور چند ہی منٹ میں سب لوگ اس طرح گرد جمع ہو گئے جس طرح کہ کہتے ہیں کہ مُردے اسرافیل کے طور پر قبروں سے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔آپ لڑائی میں ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ مسلمان کبھی پہلے خودحملہ نہ کرے ہمیشہ دفاعی طور پرلڑے اور یہ کہ عورتوں کو نہ ماریں۔بچوں کو نہ ماریں۔پادریوں کو نہ ماریں۔بوڑھے اور معذوروں کو نہ ماریں جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں۔درخت نہ کاٹیں۔عمارتیں نہ گرا ئیں۔قصبوں اور گا ؤں کو نہ لوٹیں اور اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو اس پر سخت