سفر یورپ 1924ء — Page 367
ناراض ہوتے۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل مکہ پر فتح دی تو مکہ کے لوگ کانپ رہے تھے کہ اب نہ معلوم ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔مدینہ کے لوگ جنہوں نے خودان تکلیفوں کو نہ دیکھا تھا جو آپ کو دی گئیں مگر دوسروں سے سنا تھا وہ آپ کی تکلیف کا خیال کر کے مکہ کے لوگوں کے خلاف جوش میں بھرے ہوئے تھے مگر آپ جب مکہ میں داخل ہوئے سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو ! آج میں ان سب قصوروں کو جو تم نے میرے حق میں کئے ہیں معاف کرتا ہوں تم لوگوں کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔اگر جنگیں نہ ہوتیں اور آپ کو بادشاہت نہ ملتی تو آپ کامل نمونہ کس طرح دکھاتے اور انسانی اخلاق کے اس پہلو کو کس طرح دکھاتے ؟ غرض کہ جنگوں نے بھی آپ کے اخلاق کے ایک پہلو پر سے پردہ اُٹھایا اور آپ کی صلح اور امن سے محبت اور آپ کے رحم کو ظاہر کیا کیونکہ سچا رحم کرنے والا اور عفو کر نے والا وہی ہے جسے طاقت ملے اور وہ رحم کرے اور سچا وہی ہے جسے دولت ملے اور وہ اسے تقسیم کرے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے ظالم دشمنوں پر فتح دی اور آپ نے ان کو معاف کر دیا۔آپ کو اس نے بادشاہت دی اور آپ نے اس بادشاہت میں بھی غربت سے گزارا کر کے اور سب مال حاجت مندوں میں تقسیم کر کے اس بات کو ثابت کر دیا کہ آپ غربا کی خبر گیری کی تعلیم اس لئے نہیں دیتے تھے کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں بلکہ آپ جو کچھ کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔آپ نے زندگی کے ہر ایک لمحہ کو خدا کے لئے تکلیف اُٹھانے میں خرچ کیا اور گویا آ روز ہی خدا کے لئے مارے جاتے تھے۔۶۳ سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور بیماری کی حالت میں بھی آپ کو یہی خیال تھا کہ کہیں لوگ میرے بعد شرک نہ کرنے لگیں۔چنانچہ بیماری موت میں آپ بار بار گھبرا گھبرا کر فرماتے تھے کہ خدا تعالیٰ بُرا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت کی جگہیں بنالیا ہے یعنی اپنے نبیوں کو الوہیت کی صفات دے کر ان سے دعائیں وغیرہ مانگتے ہیں جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ایسا نہ کریں۔اسی طرح شرک کی تردید کرتے ہوئے آپ اپنے پیدا کرنے والے سے جاملے اور باوجود اس کے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتے ہیں۔سب سے زیادہ شرک مٹانے والے محمد یہ ہیں۔انہوں صلى الله