سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 283 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 283

۲۸۳ نقل مضمون جو آج شام پروٹسٹ میٹنگ میں پڑھا جائے گا۔بسم الله الرحمن الرحيم اعوذ با الله من الشيطن الرجيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر شکریہ: پریذیڈنٹ ! بہنو اور بھائیو! میں آپ لوگوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہمارے صدمہ میں ہم سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔آپ لوگ یہ تو پڑھ چکے ہوں گے کہ مولوی نعمت اللہ احمدی کو اکتیس اگست کے دن کا بل گورنمنٹ نے سنگسار کر دیا ہے صرف اس وجہ سے کہ اس نے احمدیت کو کیوں قبول کیا ہے مگر آج آپ لوگوں کو اختصار کے ساتھ اس واقعہ کی تمام کیفیت سنانا چاہتا ہوں تا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ فعل کیسا نا روا تھا۔شہید مرحوم کے حالات: مولوی نعمت اللہ خان کا بل کے پاس ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔احمدی ہونے پر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ سلسلہ کی تعلیم بھی حاصل کریں اور قادیان چلے آئے جہاں وہ احمد یہ دینی کالج میں داخل ہوئے۔وہ ابھی کالج ہی میں تعلیم پار ہے تھے کہ کابل کے احمدیوں کی تعلیم کے لئے ان کو وہاں بھیجنا پڑا۔چنانچہ ۱۹۱۹ ء میں وہ وہاں چلے گئے اور چونکہ افغانستان میں احمدیوں کے لئے امن نہ تھا مخفی طور پر اپنے بھائیوں کو سلسلہ کی تعلیم سے واقف کرتے رہے۔اس عرصہ میں گورنمنٹ افغانستان نے کامل مذہبی آزادی کا اعلان کیا اور ہم نے سمجھا کہ اب احمد یوں کو اس علاقہ میں امن ہوگا مگر پیشتر اس کے کہ وہاں کی جماعت کے لوگ اپنے آپ کو علی الاعلان ظاہر کرتے مناسب سمجھا گیا کہ گورنمنٹ سے اچھی طرح سے دریافت کر لیا جائے۔ارکان حکومت کابل کے مواعید : چنانچہ جب محمود طرزی صاحب سابق سفیر پیرس کی قیادت میں افغان گورنمنٹ کا ایک مشن برٹش گورنمنٹ سے معاہدہ صلح کرنے کے لئے آیا تو اس