سفر یورپ 1924ء — Page 284
۲۸۴ وقت میں نے ان کی طرف ایک وفد اپنی جماعت کے لوگوں کا بھیجا تا کہ وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا مذہبی آزادی دوسرے لوگوں کے لئے ہے یا احمدیوں کے لئے بھی۔اگر احمدیوں کے لئے بھی ہے تو وہ لوگ جو اپنے گھر بار چھوڑ کر قادیان میں آگئے ہیں واپس اپنے گھروں کو چلے جاویں۔محمود طرزی صاحب نے میرے بھیجے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ افغانستان میں احمدیوں کو اب کوئی تکلیف نہ ہوگی کیونکہ ظلم کا زمانہ چلا گیا ہے اور اب اس ملک میں کامل مذہبی آزادی ہے۔اسی طرح دوسرے ممبران وفد نے بھی یقین دلایا۔ان لوگوں میں سے جو اپنے ملک کو چھوڑ کر قادیان آ گئے ہیں ایک نوجوان نیک محمد بھی ہے جو احمدیت کے اظہار کی آزادی نہ پا کر چودہ سال کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا آیا تھا۔اس نو جو ان کا والد غزنی کے علاقہ کا رئیس تھا اور غزنی کا گورنر بھی رہا ہے۔یہ نو جوان بھی وفد کے ساتھ تھا۔اس کو دیکھ کر کئی ممبر ان وفد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ایسے ایسے معزز خاندانوں کے بچے اس عمر میں اپنے عزیزوں سے جُدا ہو کر دوسرے وطنوں کو جانے پر مجبور ہوں یہ بہت بڑا ظلم ہے جو ہر میجسٹی امیر امان اللہ خان کے وقت میں نہ ہوگا اور ایشیائی طریق پر اپنے سینوں پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ تم واپس وطن کو چلو دیکھیں تم کو کون ترچھی نظر سے بھی دیکھتا ہے۔اس ملاقات کے نتیجہ میں ہمارا وفد اپنے نزدیک نہایت کامیاب واپس آیا مگر مزید احتیاط کے طور پر میں نے چاہا کہ امیر افغانستان کو اپنے عقائد سے بھی مطلع کر دیا جائے اور ہماری امن پسند عادت سے بھی آگاہ کر دیا جائے تا کہ پھر کوئی بات نہ پیدا ہو اور میں نے مولوی نعمت اللہ خان کو ہدایت کی کہ وہ محمود طرزی صاحب سے ان کی واپسی پر ملیں اور ان سے بعض احمد یوں پر جو ظلم ہوا ہے اس کا تذکرہ کریں اور امیر کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی بھی اجازت لیں۔محمود طرزی صاحب نے ان احمدیوں کی تکلیف کا تو ازالہ کرا دیا اور اس امر کی اجازت دی کہ جو خط امیر کے نام آئے وہ اس کو غور سے پڑھیں گے۔اس موقع پر ہمارے مبلغ نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کر دیا تھا پبلک پر بھی ظاہر کر دیا۔چونکہ افغانستان کے بعض علاقوں سے یہ خبریں برابر آ رہی تھیں کہ احمد یوں پر برا بر ظلم ہو رہا ہے۔ان کو بلا وجہ قید کر لیا جاتا ہے پھر ان سے روپیہ لے کر ان کو چھوڑ ا جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے صیغہ دعوۃ والتبلیغ کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس کے متعلق افغانستان گورنمنٹ