سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 223 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 223

۲۲۳ سے ایک اُنس ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کے کام میں برکت دے اور آپ کی ہمتوں کو بلند کرے۔بہنو اور بھائیو! میں ایک بات کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو یقیناً آپ کے کام میں مد ہوگی اور جس کے بغیر حقیقی کامیابی مشکل ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کو اس ہستی کی طرف قدم بڑھانا چاہیئے جو تمام عالم خلق کے لئے بطور مرکز کے ہے۔ایک دائرہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تمام بعد مرکز سے بعد کی وجہ سے ہوتے ہیں اور جوں جوں ہم مرکز کے قریب ہوتے جائیں خواہ ہم کسی جانب سے بھی کیوں نہ چلے ہوں ہم دوسرے کے زیادہ سے زیادہ نزدیک ہوتے چلے جاتے ہیں حتی کہ اگر ہم مرکز تک پہنچنے کی توفیق پالیس پھر تو ہم میں کوئی جدائی رہتی ہی نہیں۔اس تمام عالم خلق کا مرکز خدا ہے اور بغیر اس کی کامل محبت کے اور اس کے قرب کے ہم حقیقی اتحاد پیدا نہیں کر سکتے۔جھگڑے تبھی پیدا ہوتے ہیں جب کہ ہم اس کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں۔اس کی کامل محبت ہمارے دلوں کو نفرت اور حقارت کے جذبات سے بالکل خالی کر دیتی ہے۔لوگ ضرب المثال کے طور پر بھائیوں کی محبت کو پیش کرتے ہیں مگر یہ محبت کس سبب سے ہے؟ اسی لئے کہ ان کے وجود میں لانے والی ہستی ایک ہے۔اولاد کا ماں سے یا باپ سے تعلق ان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کر دیتا ہے۔اسی طرح جب لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کو دوسری باتوں پر ترجیح دیں گے تو ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے اور وہ محسوس کریں گے کہ جب ان سب کا پیدا کرنے والا ایک ہے اور وہ ایک ہی ہستی کے دامن رحمت کے سایہ کے نیچے بیٹھے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی نسبت نفرت اور حقارت کے جذبات کو پیدا ہونے دیں۔دنیا کا امن دنیا کے لوگوں کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا کیونکہ صلح کرنے والا یا مغربی ہوگا یا مشرقی اور اس وجہ سے ایک یا دوسری قوم اس کی کوششوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھے گی۔صلح اس ہستی کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی ہے بلکہ سب جہتوں سے پاک ہے۔اسی ذات کی طرف قدم بڑھانے سے ہم در حقیقت ایک دوسرے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور جو اس کی طرف سے آئے وہی ہم کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ وہ جو آسمان سے آتا ہے وہ مشرقی یا مغربی نہیں کہلا سکتا بلکہ جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی مشرق و مغرب کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔