سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 224 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 224

۲۲۴ میں سخت حیران ہو جاتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ بلا وجہ بے سبب قو میں آپس میں کیوں عداوت کرتی ہیں۔رہائش کی جگہ کے اختلاف اور دلی منافرت اور عداوت کا آپس میں کیا تعلق ہے۔کیا کوئی ملک ہے جو سب دنیا کی آبادی کو جمع کر سکا ہے۔کیا یورپ یا اس کے مختلف پہلا دامریکہ، افریقہ اور ایشیا کی آبادی کو جگہ دے سکتے ہیں۔کیا افریقہ، امریکہ یا ایشیا دوسرے براعظموں کی آبادی کو سنبھال سکتے ہیں۔اگر نہیں تو جو بعد محض ضرورت کی وجہ سے ہے اور جس کا علاج کسی کے پاس نہیں اس کے سبب سے اس قدر جھگڑا اور لڑائی کیوں ہے۔میں مذہبی تمدنی اور علمی اختلاف کو دیکھتا ہوں تو بھی وجہ اختلاف کی نظر نہیں آتی۔اگر کوئی قوم دوسری قوموں سے مذہبی ، تمدنی یا علمی ترقی میں بڑھی ہوئی ہے تو اس کو دوسری قوموں کو اُبھارنے کی کوشش کرنی چاہیئے نہ کہ اس سے نفرت کرنی چاہیئے۔ایک گرے ہوئے بھائی کی حالت دیکھ کر ایک شریف آدمی کے دل میں اظہار ہمدردی پیدا ہوتا ہے یا اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے؟ دوستی تو وہی ہے جو تکلیف کے وقت میں ظاہر ہو نہ وہ جس کا اظہار آرام اور راحت کے زمانہ میں کیا جائے۔پھر جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے قوموں کی ترقیات اور ان کے تنزل دوامی نہیں۔آج ایک قوم ترقی کرتی ہے کل دوسری۔کون سی قوم ہے جس نے شروع دنیا سے علم کی مشعل کو اونچا رکھا ہو۔کس قوم کا حق ہے کہ وہ دوسروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے۔دنیا کی ہر ایک قوم ایک دوسرے کی شاگرد ہے۔باری باری سب ہی استاد اور شاگرد کی جگہیں تبدیل کرتے چلے آئے ہیں پھر یہ اختلاف اور منافرت کیوں ہے اس وجہ سے کہ لوگ اپنے آپ کو اس دنیا میں محدود سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے جہات کا اختلاف اور حالتوں کا تغیر ان کے قلوب پر برا اثر ڈالتا ہے۔جس دن دنیا کا یہ نقطہ نگاہ بدلا اسی دن سے صلح اور امن کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔بہنو اور بھائیو! آؤ ہم اپنی نظر کو ذرا اونچا کریں اور دیکھیں کہ ہم صرف اسی دنیا کے ساتھ جو سورج کے گرد زمین کی گردشوں کی وجہ سے مشرق ومغرب میں منقسم ہے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ہماری جگہ بہت وسیع ہے۔ہم اس خدا سے تعلق رکھتے ہیں جو تمام عالم کا پیدا کرنے والا ہے۔پس ہمارا مقام سورج سے بھی اونچا ہے اور مشرق و مغرب ہمارے غلام ہیں نہ کہ ہم مشرق و مغرب کے غلام۔ہم سمجھدار ہو کر ان باتوں سے کیوں متاثر ہوں جو صرف نسبتی اور وہمی ہیں۔مشرق و مغرب کا سوال لوگوں کے امن کو برباد کر رہا