سفر یورپ 1924ء — Page 222
۲۲۲ کر خوش رہ سکیں مگر وقت دعوت کا ساڑھے بارہ بجے تھا۔ایک ڈیڑھ بجنے والا ہے وہ لوگ نہیں آئے اور حضور بھی باہر تشریف لے گئے ہوئے ہیں ابھی تک واپس تشریف نہیں لائے۔ڈاکٹریس آن پہنچے ہیں مگر تنہا کیونکہ بیوی بچوں کو ساتھ لانے کے متعلق ان کو خط نہیں پہنچا۔اب وہ شاید اڑھائی بجے پہنچیں گے۔حضرت اقدس کی اردو میں لکھی تقریر درج ذیل ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم اعوذ بالله من الشيطن الرجيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر صدر مجلس، بہنو اور بھائیو! گو آج آپ ایک اور لیکچر کے سننے کے لئے جمع ہوئے ہیں مگر مسٹر داس گپتا ڈائرکٹر آف دی یونین آف دی ایسٹ اینڈ ویسٹ نے چونکہ مہربانی سے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں بھی چند منٹ کے لئے بولوں میں بھی اپنے چند خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سوسائٹی کی اصل غرض کے سوا اور کوئی مضمون ایسا لطیف نہیں ہو گا جس کے متعلق میں آج آپ لوگوں کے سامنے کچھ کہوں۔اس سوسائٹی کی غرض جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے مشرق و مغرب کے درمیان اتفاق ہے اور اس غرض سے مجھے خاص طور پر دلچسپی ہے کیونکہ میں جس بزرگ کی پیروی پر فخر کرتا ہوں اور جس کی نیابت کا عہدہ خدا تعالیٰ نے محض بندہ نوازی سے مجھے عطا فرمایا ہے اس کا دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے اس لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ تمام دنیا سے فساد کو دور کرے اور سب لوگوں میں محبت اور پیار کی روح پھونکے۔اس کے عہدوں میں سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے عطا ہوئے ایک سلامتی کا شہزادہ بھی تھا کیونکہ وہ سب دنیا کو سلامتی دینے کے لئے آیا تھا۔پس مجھے اور ہر ایک میرے ہم مذہب کو اس امر کو دیکھ کر کہ کوئی جماعت اس غرض کے پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہے جس کے لئے ہمارا امام بھیجا گیا تھا نہایت ہی خوشی پہنچتی ہے۔پس طبعا مجھے آپ کی ایسوسی ایشن