سفر یورپ 1924ء — Page 221
۲۲۱ اور نہایت برجستگی سے حضور نے مضمون کو نباہا ایسا جیسا کہ حضور اپنے اردو مضمون کو آہستگی اور تسلی سے ادا فر ماتے ہیں۔لوگوں نے خوش ہو کر بڑی لمبی چیئر ز دیں۔حضور کی تقریر کے بعد اور بھی تقریریں ہوئیں مگر وہ بدھ مذہب کے متعلق تھیں اور بالکل معمولی و رسمی بلکہ سطحی تھیں۔( یہ باتیں محترم در دصاحب سے سن کر عرض کی ہیں ) حضور رات بوٹ بھی پہن کر نہ گئے تھے بلکہ صرف گرگابی پرانی تھی۔حضور فرماتے ہیں کہ جب میں بیٹھ گیا ( سٹیج پر ) تب معلوم ہوا کہ بوٹ نہیں بلکہ پرانی گرگابی ہے۔پونے گیارہ بجے حضور وہاں سے تشریف لائے۔مضمون دس یا پندرہ منٹ میں ختم ہو گیا تھا۔واپس آ کر حضور نے کھانا کھایا۔نماز عشاء پڑھائی اور آرام کیا۔رستمبر ۱۹۲۴ء : حضور صبح کی نماز میں تشریف نہیں لائے۔ناشتہ حضور نے 9 بجے فرمایا۔میں نے موقع پا کر حضرت اقدس کے حضور حاضر ہو کر رات کا سارا واقعہ عرض کیا تو فرمایا کہ میں تم سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ مجھے علم ہے کہ تم لوگوں کو میرے اس حکم کا علم نہ تھا لہذا میں ناراض نہیں ہوں مگر چونکہ اس وقت ان لوگوں کے ساتھ تھے جنہوں نے خلاف حکم کیا اس وجہ سے وہاں سے واپس آنا پڑا۔صرف دو آدمیوں کا خاص کر نام لیا کہ میں ان سے ناراض ہوں۔الحمد للہ حضور کے اس فرمان سے جان میں جان آئی اور عرض کیا حضور کل ڈاک ہند جانے والی ہے اطلاعاً عرض ہے۔فرمایا ہاں میں لکھ رہا ہوں۔اس وقت حضور لنڈن شہر کا نقشہ ملا حظہ فرما رہے تھے اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔تھوڑی دیر بعد حضور بازار کو مع ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تشریف لے گئے۔کل بھی حضور بازار گئے تھے اور علاوہ بعض دوسری اشیاء کے فرینچ، جرمن، اٹالین وغیرہ زبانوں کی ابتدائی کتب حضور نے خرید فرما ئیں اور چند چھوٹے چھوٹے ناول انگریزی زبان کے زبان دانی کی غرض سے خرید فرمائے۔آج حضور نے ڈاکٹریس نو مسلم کو دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی بچوں کی بھی بلکہ غلام فرید صاحب کی بیوی اور بچوں کو بھی بلوایا ہوا ہے کہ تا عورتیں عورتوں میں مل