سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 220 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 220

۲۲۰ شیخ عبد الرحمن صاحب بھی نیچے جا کر اور دیکھ کر اور ملک غلام فرید صاحب بھی نیچے جا کر اور دیکھ کر اوپر آئے تھے۔شیخ صاحب مصری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اقدس کے حضور عرض کیا کہ حضور کے حکم کی مجھے بھی اطلاع نہیں تو اوروں کو کیا ہوگی۔میرا خیال ہے کسی کو بھی اطلاع نہیں ہوئی ور نہ حضور کا حکم پا کر کوئی بھی ایسی غلطی نہ کرتا۔ملک غلام فرید صاحب نے حضرت اقدس کا حکم پاکر نیچے کے لوگوں کو جو پہلے ہی گھبراہٹ میں تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔سنا تھا کہ حضور آتے ہیں۔خان صاحب کہہ کر گئے ہیں کہ میں حضرت اقدس کو لاتا ہوں مگر وہ بھی نہیں آئے۔حکم سنتے ہی حیران و ششدر رہ گئے اور فور ابا ہر آ گئے۔باہر آ کر اس خیال میں تھے کہ کسی طرح سے حضرت اقدس کے حضور سارا ماجرا عرض کیا جاوے کہ ہم لوگ کسی گھبراہٹ میں تھے۔کوئی حکم نہیں دیا گیا۔آئے ایسی جگہ ہیں جہاں معاملہ کچھ اور ہی نظر آ رہا ہے پھر ہم پر یہ ناراضگی اور سزا نازل ہوئی ہے۔ہم لوگ اسی خیال میں تھے کہ ملک نواب دین صاحب نے جرات کی اور مولوی مصباح الدین صاحب کو ساتھ لے کر حضرت اقدس کے حضور گئے مگر حضور نے فرمایا کہ یہ سز اغلطی ہی کی ہے نیکی کی تو نہیں گھر چلے جائیں مگر جیسا کہ بعد میں حضرت اقدس سے معلوم ہوا وہ حکم صرف مبلغین کے لئے اور ان میں سے بھی صرف دو آدمیوں کے لئے تھا اور حضور کو خیال بھی یہی تھا کہ مبلغین نے باوجود حکم سننے کے خلاف ورزی کی ہے۔غرض ڈاکٹر صاحب، عرفانی صاحب، چوہدری محمد شریف صاحب، چوہدری علی محمد صاحب، ملک نواب الدین صاحب، مولوی مصباح الدین صاحب، مولوی محمد دین صاحب اور قادیانی با چشم گریاں اور بادل بریاں واپس مکان پر آگئے۔مولوی عبدالرحیم صاحب در دحضور کی نا راضگی سنتے رہے مگر ر ہے و ہیں۔حضور کی تقریر جو حضور نے اردو میں لکھی تھی جس کو میں ذیل میں نقل کرتا ہوں اور انگریزی میں جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ترجمہ کی۔اصل ترجمہ پنسل کا لکھا ہوا ارسال کرتا ہوں ، حضور نے خود پڑھی اور خدا کے فضل سے خوب ہی پڑھی۔لوگوں نے حضور کو کھڑے ہونے پر چیئر ز دیئے اور پھر مضمون کے درمیان بھی کسی خاص مقامات پر چیئر ز دیئے۔حضور کی آواز بالکل صاف تھی