سفر یورپ 1924ء — Page 207
۲۰۷ شہروں میں پھیل گئے تا کہ خدا کے جلال کے لئے شہادت ہوں اور اس کی لازوال طاقتوں پر دلالت کریں۔پس ہم جو کچھ کرتے ہیں اپنی طرف سے نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ کا حکم ہمیں چلاتا ہے۔ہماری ہر ایک حرکت اور ہماری ہر ایک کوشش اس کے خاص منشاء کے ماتحت ہے اور گویا ہماری مثال اس بانسری کی ہے جو ویسی ہی آواز نکالتی ہے جیسی آواز کہ اس کے پیچھے گانے والا نکالتا ہے۔ہم خدا کے منہ میں ایک بانسری ہیں جو اس کی آواز کو دنیا میں پہنچاتے ہیں اور اس لئے ہم کبھی مایوس نہیں ہوتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی آواز کبھی نیچی نہیں ہوتی۔نہ تکلیفیں ہمیں خائف کرتی ہیں اور نہ موت ہم کو ڈراتی ہے۔جیسا کہ افغانستان میں آپ لوگوں نے سنا ہوگا کہ حکومت ہمارے آدمیوں کو سنگسار کرتی ہے اور رعایا ان کو قتل کرتی اور ان کے گھروں کو جلاتی ہے مگر باوجود اس کے کہ چوبیس سال سے یہی سلوک ہم سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ہم نے اس ملک کو نہیں چھوڑا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری ترقی اس ملک میں روز بروز ہوتی ہی جاتی ہے۔غرض ہمارا مشن ایک محبت اور خیر خواہی کا مشن ہے اور ہماری ایک ہی غرض ہے کہ جس طرح ہم نے خدا تعالیٰ کو پالیا ہے ہمارے دوسرے بھائی بھی اس کو پالیں اور اس سے دوری کی زندگی بسر نہ کریں اور ہم اس ملک میں مسیح کی آمد ثانی کی منادی کرنے آئے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک اس کے قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں۔وہ دنیا کا نجات دہندہ ہے اور جب تک لوگ اس کے دامن کے نیچے نہ آویں گے اور اپنی زندگی کو اس تعلیم کے مطابق نہ کریں گے جو ( دین حق ) نے بیان کی ہے اور جس کی صحیح تشریح کرنے کے لئے مسیح موعود کو بھیجا گیا ہے اس وقت تک موجودہ فسادات دور نہ ہوں گے اور جھگڑے اور لڑائیاں برابر دنیا کے امن کو برباد کرتے چلے جائیں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس سر چشمہ قدوسیت سے دور رہیں گے جس کا قرب حاصل کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اے بہنو اور بھائیو ! انسان کی پیدائش کی اگر کوئی غرض ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے وصال ہے۔پھر دل کس طرح تسلی پاسکتے ہیں جب تک وہ اس کا وصال حاصل نہ کریں۔میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ وید کو پڑھنے والا جب وید کو پڑھتا ہے یا قرآن کو پڑھنے والا قرآن کو پڑھتا ہے اور ان کے ورقوں میں سے خالق ارض و سماء کی شیریں آواز کی گونج کو جو اُن لوگوں پر نازل ہوئی جو