سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 208 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 208

۲۰۸ آج سے ہزاروں سال پہلے گزرے، سنتا ہے تو اس کے دل میں خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ میں بھی خدا کے قریب ہوں اور اس کی دلکش آواز کوسنوں اور اس کی محبت کو انہی لوگوں کی طرح حاصل کروں۔یا اس کے دل میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ جب اس زمانہ کا سلوک ویسا ہی نہیں جیسا کہ پچھلے لوگوں سے تھا ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے خیالات کے پیدا نہ ہونے کا سبب یہ خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کا فیضان پچھلے زمانہ پر ختم ہو گیا مگر اے بہنو اور بھائیو! یہ خیال اس محبت کرنے والے رب پر بدظنی ہے جس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی اور کوئی نہیں ہے۔میں اپنے تجربہ کی بنا پر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسیح موعود کے تعلق کے واسطہ سے اب بھی انسان انہی فیوض کو دیکھتا ہے جس کو پچھلے لوگ دیکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اب بھی اس طرح کھلے ہیں جس طرح پہلے زمانہ میں کھلے تھے۔پس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔بے شک ہماری باتیں اس زمانہ کے لحاظ سے عجیب ہیں اور عقل نہیں مانتی کہ اس زمانہ میں یہ باتیں پھیل جائیں گی مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی آواز اُٹھی ہے ایسے ہی حالات میں اُٹھی ہے اور اسی طرح اس کا بلند ہونا ناممکن سمجھا گیا جب حضرت مسیح علیہ اسلام نے بنی اسرائیل کو خدا کا پیغام پہنچایا ، جب کہ محمد ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔اس وقت کون تسلیم کرتا تھا کہ یہ لوگ کامیاب ہو جائیں گے مگر آخر وہ کامیاب ہو کر رہے کیونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے بولتے تھے جو تمام دنیا کا بادشاہ ہے۔اسی طرح اب یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا مشن کامیاب ہو جائے گا مگر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبر دے چھوڑی ہے ایسا ہی مقدر ہے اور ایسا ہی ہو کر رہے گا مگر مبارک ہیں وہ جو تعصب کو نظر انداز کر کے سنجیدگی سے اس شخص کی آواز پر کان دھرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔یہ دعوی معمولی نہیں ہے خصوصاً اس حالت میں کہ اس دعویٰ کی تصدیق کے آثار ظا ہر ہو چکے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ سب بہنیں اور بھائی جو اس وقت جمع ہیں خواہ کسی ملک اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں پوری توجہ سے اس سلسلہ کی حقانیت کے متعلق غور کرنا شروع کریں گے اور اگر ان پر حق کھل جائے تو اس کو دلیری سے قبول کریں گے اور دوسروں کو بھی حق کی طرف بلائیں گے تا ان کا نام سابقون میں لکھا جائے اور سابقون میں شامل ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ایسے لوگ اس دنیا میں بھی ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں اور ان کا