سفر یورپ 1924ء — Page 206
ہوں۔میری سب کوششیں اس محبت کی وجہ سے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ مشنری جو میری طرف سے ان ممالک میں کام کرتے ہیں یا کریں گے وہ بھی اسی روح سے کام کریں گے اور میں اس امر کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ جو کام محنت ، اخلاص اور استقلال سے کیا جائے وہ بے نتیجہ رہے۔محبت محبت پیدا کرتی ہے اور ہماری گہری محبت جو اس ملک کے لوگوں سے ہے اور جو مجھے مجبور کرتی ہے کہ اپنے ملک سے ہزاروں کوس دور اپنے بال بچوں سے علیحدہ کسی دنیوی فائدہ کیلئے نہیں بلکہ تمام دنیاوی امیدوں کو قطع کر کے اس ملک میں کام کریں وہ ضرور ایک دن اس ملک کے لوگوں کے دلوں پر اثر کر کے رہے گی اگر ایسا نہ ہو تو یقینا یہ ہماری محبت کی کمی کے باعث ہوگا یا اخلاص کے نقص کے باعث۔شائد آپ لوگ حیران ہوں گے کہ وہ مشرق جس کی طرف مغرب مشنری بھیج رہا تھا اور بالکل غیر متمدن تھا آج اس میں کیا تبدیلی ہو گئی کہ مغرب کی طرف مشنری بھیجنے لگا۔یہ آپ کی اس حیرت کا جواب وہی دے سکتا ہوں جو ایران کے دربار میں محمد رسول اللہ علیہ کے ایک صحابی نے دیا تھا جب اس سے اس قسم کا سوال کیا گیا تھا۔اس نے کہا کہ بے شک جو عیب ہماری طرف منسوب کئے جاتے ہیں ہم میں وہ سب موجود تھے بلکہ ان سے بھی زیادہ اور بے شک ہم ایسے ہی کم ہمت تھے جیسا کہ آپ نے بیان کیا مگر خدا تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول مبعوث کر کے ہماری حالت کو بدل دیا اور ہماری ہمت کو بلند کر دیا ہے۔اب ہم وہ نہیں جو پہلے تھے اور اب ہمیں وہ چیزیں تسلی نہیں دے سکتیں جو پہلے دیا کرتی تھیں۔اے بہنو اور بھائیو! ہماری بھی یہی حالت ہے۔آج سے چونتیس سال پہلے ( دین حق ) کی حالت ایسی ہی تھی کہ اس کے بہترین محافظ اس کی طرف سے لجاجت کے ساتھ معذرت کیا کرتے تھے مگر چونتیس سال گزرے کہ خدا تعالیٰ نے ایک رسول کو ہم میں مبعوث کیا اس رسول کو جس کی مختلف ناموں سے پہلے انبیاء نے خبر دی تھی۔کسی نے اس کا نام مسیح رکھا تھا۔کسی نے مہدی۔کسی نے کرشن کسی نے میسیو را بھی۔اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردہ قوموں پر زندگی کا پانی چھڑ کا اور وہ خدا کی نازل کردہ روح سے زندہ ہو گئے اور سینکڑوں سالوں کے قبرستانوں کو چھوڑ کر آبادیوں اور