سفر یورپ 1924ء — Page 202
۲۰۲ کیا ہے۔غرض ان کا خطبہ بہت ہی زور دار تھا۔سب نے سنا اور توجہ سے سنا۔ان کے بعد مسٹر جنجوعہ نے کچھ تقریر کی جو بہت ہی غیر محفوظ الفاظ کا مجموع تھی۔اس کارروائی کے خاتمہ پر حضرت اقدس کا وہ ایڈریس جس کو مکرم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے موٹر کے راستہ میں کچھ ٹھیک بھی کیا تھا اور دل ان کا نہ چاہتا تھا کہ اس کو پڑھیں ، شروع ہوا مگر چوہدری صاحب کچھ بولتے بولتے بھی درست کر لیتے تھے۔غرض جہاں تک ہو سکا چوہدری صاحب نے اس کی کمزوریوں کو چھپاتے ہوئے اسے نبھا نے کی کوشش کی اور ختم کیا۔بہت ہی توجہ اور دلی محبت سے لوگوں نے سنا۔خصوصاً نرم دل عورتوں نے اور بعض انگریز مردوں نے اور اس کا اثر ان کے چہروں سے نظر آتا تھا اور میں دیکھتا تھا کہ بعض عورتیں اسی وقت آگے بڑھ کر حضرت اقدس کے قدم چومنے کو تیار نظر آتی تھیں مگر معلوم ہوتا تھا کہ حیا نے ان کو روک رکھا تھا۔مضمون ختم ہوتے ہی بہت جلدی کی سفیر ترکی نے جانے کی اور فوراً مصافحہ کر کے چلا گیا۔ان کے چلے جانے کے بعد بعض عورتوں نے اور اکثر مردوں نے فرداً فرداً حضور سے باتیں کیں اور ساڑھے ۴ بجے سے ساڑھے 4 بجے تک سلسلہ گفتگو برابر جاری رہا۔آخر حضور نے نماز کے لئے سب کو وہیں چھوڑا مگر نماز کے معاً بعد حضرت اقدس کے حضور بہائیہ انگریز عورتوں کی درخواست ملاقات آئی جس کو حضور نے منظور فرمایا اور سات سے دس بلکہ ساڑھے دس بجے تک حضور ان سے گفتگو بلکہ بحث کرتے رہے۔بعض عورتیں بہت سخت تھیں اور جس بات کو وہ مان چکی تھیں اس کے خلاف کچھ سننا پسند نہ کرتی تھیں۔اول اول تو چوہدری صاحب نے ترجمانی کی مگر بعد میں حضور خود انگریزی میں باتیں کرتے رہے۔ایک امریکن لیڈی نے زور سے مباحثہ شروع کیا مگر ایک ہی دو باتوں میں رہ گئی۔اس نے تعدد ازدواج پر اعتراضات کئے۔حضور نے اور جوابوں کے ساتھ یہ بھی جواب دیا کہ خود تمہارے بہاء اللہ کے دو بیویاں تھیں۔اس پر اس نے کہا کہ دعوئی سے پہلے وہ بیویاں تھیں مگر بعد میں وہ بہنیں تھیں بیویاں نہ تھیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ وہ تو آخری عمر تک بچے جنتی رہیں۔کیا بہن سے بھی کوئی بچہ لیا کرتا ہے؟ اس پر وہ دم بخو د ہوئی اور کچھ نہ بن آیا اور آخر کہنے لگی کہ ہم تو اس کو مسلمان سمجھ کر اس کی پیروی کرتی ہیں اگر وہ مسلمان نہیں ہے تو پھر ہما راس سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور چلی گئی۔