سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 203 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 203

٢٠٣ دوسری عورتیں دیر تک حضرت اقدس سے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتی رہیں مگر ان کو خودان کے بہائیہ عقائد کا پتہ نہ تھا جو بات حضور ان کو بتا ئیں وہ کہہ دیں کہ ہمیں تو اس کا پتہ نہیں۔بعض اوقات وہ اپنے عقائد میں باہم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگتی تھیں۔آخر حضور نے ان کو کہا کہ تم اول اپنے عقائد کو درست کر لو۔کتابیں مجھ سے لو اور ان کا مطالعہ کرو پھر بحث کرنا۔اُن میں ایک بہت ہی ضدی تھی کہنے لگی کہ میں چونکہ بہاء اللہ پر ایمان لاتی ہوں اس وجہ سے اس کی سب باتوں کو مانتی ہوں اور بلا دلیل قبول کرتی ہوں۔حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ پھر کوئی مذہب بھی باقی نہ رہے گا جس کے لئے صداقت کے دلائل تلاش کئے جائیں۔بے دلیل کی بات ہے تو پھر اس کا میں بھی کیا جواب دے سکتا ہوں مگر اس کی دوسری ساتھیوں پر اس بات کا اثر تھا۔وہ چلی گئیں۔مجلس برخاست ہوئی مگر اس کے بعد بھی ایک گھنٹہ تک حضور ایک دیسی مسلمان طالبعلم سے باتیں کرتے رہے اور بہائیت کی ہسٹری اور قصہ اس کو کھول کر سنایا اور سمجھایا۔مکان پر پہنچ کر کھانا کھایا گیا اور گفتگو کا سلسلہ راستہ میں اور مکان پر کھانا کھاتے وقت اور بعد بھی جاری رہا۔وہ طالب علم ساتھ ہی آ گیا تھا۔ساڑھے گیارہ بجے عرض کیا گیا کہ حضور نماز کا وقت ہے۔چند منٹ بعد حضور اُٹھے اور نماز کے واسطے تشریف لائے۔ساتھی تھوڑے تھے فرمایا سب کو بلوا ؤ مگر تھوڑے ہی آئے۔فرمایا بعض اوقات آدمی تھکا ہوا ہوتا ہے سو جاتا ہے۔بلالا ؤ مگر با وجود بلانے کے نصف ہی آسکے۔نماز ہو چکی اور حضور پھر بیٹھ گئے اور کل کے کام کے واسطے اور آئندہ کے پروگرام کے لئے تجاویز کیں اور ساڑھے بارہ بجے کے بعد اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے۔پیٹنی کے ایٹ ہوم (Eat Home) پر ایک سو سے زیادہ مرد و عورت جمع ہوئے جولنڈن کی تہذیب کے لحاظ سے بہت بڑی کامیابی کی دلیل۔پٹی سے آتے ہوئے حضور بھی براستہ ریل واپس تشریف لائے مگر حضور مع دو ایک خدام کے اول درجہ میں سوار تھے۔مسٹر جنجوعہ کی بیوی بڑی سخت بہائی عورت بتائی جاتی ہے۔کل ایٹ ہوم میں بالکل بے نقاب پھر تی تھی اور رات کی بحث میں اس نے بھی حصہ لیا۔حضور فرماتے تھے کہ آج معلوم ہوا کہ اس کو بھی اپنے عقائد کا صحیح علم نہیں ہے۔مضمون مذہبی کا نفرنس کے ۶ یا ۷ صفحات ابھی ٹائپ کرنے باقی ہیں اور درستی وصحت ابھی