سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 201 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 201

۲۰۱ معلوم کیا کہ وہ غلط تھا اور مولوی نیز صاحب کو ڈانٹا کہ آپ اتنا بھی علم نہیں رکھتے۔اول تو کھڑے کھڑے حضور ان سے عربی زبان میں باتیں کرتے رہے۔نائب سفیر اور میر منشا عربی جانتے تھے مگر سفیر خود عربی نہ جانتے تھے۔بعض اخبارات کے فوٹو گرافر موجود تھے انہوں نے فوٹو لینے شروع کر دیے مگر فوٹو کی جگہ ٹھیک نہ تھی۔نیز کھڑے کھڑے گفتگو کا اچھا موقع نہ تھا الہند انتظمین نے کرسیوں پر حضور کو بیٹھنے کے لئے عرض کیا۔حضور نے اچھی کرسی سفیر کے نائب کو دی اور خود بھی بیٹھ گئے اور احمدیت کے متعلق دیر تک ان کو انفرمیشن دیتے رہے کیونکہ انہوں نے معمولی خوش آمدید اور حالات سفر کے ذکر کے بعد خود ایسی درخواست کی تھی۔فوٹو گرافر مختلف پہلوؤں سے فوٹو لیتے رہے۔اس اثناء میں اول اکثر عورتوں نے اور چند انگریز مردوں نے ٹیبلوں پر چائے پی لی۔جب ایک حصہ چائے پی چکا تو حضرت اقدس کے حضور عرض کیا گیا مگر حضرت اقدس چونکہ تبلیغ میں مصروف تھے حضور نے فرما یا ٹھہر و۔تھوڑی دیر میں بارش ذرا زیادہ شروع ہو گئی۔بارش کی زیادتی سے صرف تقاطر مراد ہے کیونکہ یہاں وہ بارش نہیں ہوتی جیسی ہمارے ہاں ہوا کرتی ہے ) تو حضور نے خود ساتھیوں کو اُٹھ کر سایہ میں چلنے کو فرمایا اور ایک میز پر حضور بیٹھ گئے۔چائے بھی شروع کی اور باتیں بھی جاری رہیں۔حضور ایک درخت کے سایہ میں تھے اور سفیر صاحبان باہر کی طرف۔لہذا حضور نے ان کے سروں پر چھتری کا سایہ کرنے کا حکم دیا جو انہوں نے کسی قدر عذر کے بعد منظور کر لیا۔فوٹو گرافروں نے اس موقع کے بھی فوٹو لے لئے اور مختلف لئے۔حضور اور حضور کے ساتھی چائے سے فارغ ہو چکے اور دوسرے اکثر لوگ بھی فارغ ہو چکے تو حضور نے منتظمین کو جلدی کا رروائی ایڈریس کے شروع کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ چند ہی منٹ میں مولوی نیر امام نے اول اپنا خطبہ شروع کیا اور بڑے جوشیلے الفاظ اور درد ناک لہجہ میں شروع کیا اور خوب ہی نبھایا جو ان کے مذاق اور طرز کا تھا اور اچھا زور دار ایک خطبہ تھا۔گو کہ بعض غلطیاں بھی بتائی گئیں کہ انہوں نے کیوں انگریز مردوں اور عورتوں کو جمع کر کے کہا کہ یہ لوگ پتھریلی زمین ہیں یہاں صداقت کا بیج نہیں بویا جاسکتا وغیرہ۔مگر بعض نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنی بریت کی ہے اور مشکلات کا اظہار