سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 200 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 200

۲۰۰ کا لکھ لے ، میں اس کو ساتھ کا ساتھ ٹائپ کرتا چلا جاؤں۔ایسا نہ ہو کہ میرا کام پیچھے رہ جائے۔غرض بہت ہی جلدی کی جا رہی ہے۔ایسی جلدی میں اور اس طرح سے مختلف لوگوں کے ترجمہ میں جو نقص ہو سکتے ہیں وہ پوشیدہ نہیں۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی آج قدر آرہی ہے۔ان کی تلاش میں کئی آدمی اِدھر اُدھر دوڑے مگر اس کے علاوہ کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ بازار کو گئے ہیں۔آخر شام کو انہیں کورٹ مارشل کا حکم سننا ہی پڑا اور ایڈریس پڑھنے میں جو تکلیف اور غلطیوں کی وجہ سے شرمندگی اور ندامت تھی وہ سب آخر انہی کے حصہ آئی اور آنی بھی چاہیئے تھی۔کیوں انہوں نے إِذَا كَانُوْا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوْهُ کے خلاف کیا۔کیا معلوم کس وقت کسی کل پرزے کی ضرورت پیش آ جائے۔اسلام کا ہر حکم اور ہر ہدایت پر حکمت اور برمحل ہے۔خیر جیسا کیسا تھا وقت پر تیار ہو ہی گیا۔آخری چند سطور قلم سے لکھ لی گئیں اور وقت مقررہ پر پہنچنے کی کوشش کی گئی۔نماز میں جیسا کہ نمازیں یہاں کا دستور ہو گیا ہے کھانے کے بعد ۳ بجے یا ساڑھے ۳ بجے ہوا کرتی ہیں۔گو وقت کھانے کا ساڑھے بارہ بجے مقرر ہے مگر ڈیڑھ بجے سے پہلے شائد ہی کبھی کھایا گیا ہو۔گھنٹی اپنے وقت پر بیج جاتی ہے اور کھانا رکھا جاتا ہے مگر فراغت ہم لوگوں کو عموماً ۳ بجے ہی ہوا کرتی ہے۔نمازوں سے فارغ ہو کر حضور جلدی جلدی اُترے اور فرمایا ریل سے جانے والے جائیں ہم لوگ موٹر کے راستہ سے آجائیں گے۔صرف ہم کس رہ جائیں۔۔موٹر والے تو پہلے جاپہنچے۔ریل والے پیچھے رہ گئے اور ساڑھے ۴ بجے وہاں پہنچے۔موسم خراب تھا۔بارش ہو رہی تھی۔سامان چائے نوشی کا سبزہ باغیچہ پر کیا گیا تھا جو دارالتبلیغ والے مکان کے نیچے اور سامنے کے حصہ میں ہے۔میز لگے ہوئے تھے اور سامان خورد و نوش سجایا ہوا تھا۔لوگ کچھ درختوں کے سایہ میں کھڑے تھے۔کچھ چھتریاں لگائے ہوئے تھے۔عورتیں زیادہ تھیں مرد تھوڑے تھے۔جب ہم لوگ پہنچے حضرت اقدس بھی کھڑے کھڑے باتیں کر رہے تھے اور کوئی ترتیب یا انتظام نہ تھا۔تھوڑی دیر میں ترکی سفیر لنڈن اور ان کے نائب اور ایک میر منشا وہاں پہنچے۔نیز صاحب نے تعارف کرایا مگر غلط کرایا۔ترکی سفیر کے نائب موٹے تازے آدمی تھے اور وجاہت میں بڑھے ہوئے نظر آتے تھے۔انہی کو بڑے سمجھ کر انٹروڈیوس کرایا گیا مگر بعد میں حضرت اقدس نے