سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 137 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 137

۱۳۷ گارڈ نے اپنا کمبل وغیرہ بچھا کر ان کو آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔وہی روٹی ان کے آگے رکھی اور گاڑی اس تیزی سے چلائی کہ اگر وہ اسی رفتار سے چلی جاتی تو 4 بجے صبح کے وہ قطرہ پہنچ جاتے اور ے بجے پورٹ سعید پہنچ کر وہ ہمارے ساتھ ہی جہاز میں سوار ہو جاتے مگر اتفاقاً انجن بگڑ گیا اور ۴ گھنٹہ تک گاڑی رکی رہی آخر نیا انجن آیا اور گاڑی کو لے کر روانہ ہوا اور اس طرح سے گاڑی بجائے ۶ کے ۱۲ بجے قنطرہ پہنچی جہاں موٹر رات سے ان کا انتظار کر رہی تھی۔قنطرہ سے چوہدری محمد شریف صاحب کا سامان جو کک کے قلیوں نے رکھ لیا تھا لے کر وہ پورٹ سعید پہنچے۔اس موٹر کا بل 9 پونڈادا کیا گیا۔اڑھائی پونڈ ان دونوں بزرگوں کے واسطے لد کے اسٹیشن ماسٹر کو حضرت نے دیئے تھے وہ بھی اور ڈیڑھ پونڈ برٹش فضل نے دیا وہ بھی اور پچیس پونڈ کٹک سے پورٹ سعید سے لے کر روانہ ہوئے کل انتیس یا تیس پونڈ اخراجات اس پیچھے رہ جانے کی وجہ سے زائد بر داشت کر نے پڑے اور تکلیف اور رنج جدا۔چوہدری صاحب اور عرفانی صاحب پورٹ سعید ایک رات ٹھہر کر اسکندریہ گاڑی کے ذریعہ سے گئے اور وہاں ایک رات ٹھہر کر جمعہ کے روز اسی کمپنی کے ایک اچھے جہاز میں سوار ہوئے جس کا کرایہ ان کو الگ ادا کرنا پڑا کیونکہ پہلے ٹکٹ ان کے ہمارے ساتھ تھے کسی کو دیئے نہ گئے تھے۔دونوں تھرڈ کلاس میں سوار ہو کر آئے اور اسکندریہ میں ایک مصری ڈاکٹر کو تبلیغ کی جس نے سلسلہ کا لٹریچر مانگا اور بہت اخلاص سے پیش آیا اور اظہار عقیدت کیا اور کہا کہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں ہم اگر سمجھ میں آ گیا تو سب شامل سلسلہ ہوں گے۔جہاز جس میں یہ دونوں بزرگ تشریف لائے بہت اچھا اور تیز رو تھا۔۱۷ یا ۱۸ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آیا حالانکہ ہمارا جہاز صرف ۱۰ یا امیل کی رفتار سے چلتا تھا اس طرح خدا نے تین دن کے فرق کو پورا کر کے صرف ایک دن کے فرق سے ہمارے ساتھیوں کو ہم تک پہنچا دیا۔عرفانی صاحب بتاتے ہیں۔(اور اس امر کی مفصل رپورٹ وہ خود لکھیں گے یا لکھی ہو گی ) کہ پچھلی مرتبہ حیفا میں حضرت میاں صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب در دشوقی آفندی کے باپ کو نہ ملے تھے بلکہ چا کو ملے تھے۔اب کے عرفانی صاحب اور چوہدری صاحب اس کے باپ کو ملے اور تمام حالات اسی طرح سے معلوم کئے جس طرح سے محمد علی غشن اعظم سے معلوم کئے گئے تھے تو