سفر یورپ 1924ء — Page 138
۱۳۸ معلوم ہوا کہ ان کی بھی نہ کوئی حیثیت ہے نہ پوزیشن۔کسمپرس گمنام آدمی ہیں۔یہ بھی انہوں نے کہا کہ ان علاقہ جات میں ہمارے متبعین بہت کم ہیں۔شائد ۲۰۰ تک ہوں گے مگر ہندوستان میں بہت ہیں۔جس کے جواب میں ان کو بتایا گیا کہ ہندوستان کا حال ہم خوب جانتے ہیں اور یہاں کا آپ نے بتا دیا ہے۔نماز کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ مکہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں۔جب ذراز ور دے کر دہرایا گیا تو کہ دیا کہ کبھی عکہ کی طرف بھی منہ کر لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب نے بتایا اور اقرار کیا کہ پیچھے رہ جانے میں واقعی ہمارا اپنا قصور ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔حضور نے رات کھانا اچھی طرح سے نوش فرمایا اور آج دو پہر کا کھانا بھی اچھی طرح سے نوش فرمایا اور فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ آٹھ دن کا کھانا اکٹھا ہی کھالیا جائے۔( بروایت چوہدری علی محمد صاحب) ۲۰ کی شام کو روما سے لنڈن کو روانگی کا ارادہ ہے یہاں سے سیدھے لنڈن تشریف لے جائیں گے۔سوئٹزر لینڈ راستہ میں نہ آوے گا۔پیرس کو سیدھی گاڑی جاتی ہے۔۲۰ ر کی شام کو پونے ۱۰ بجے گاڑی روانہ ہو کر ساڑھے تین بجے بعد دو پہر جمعہ کے دن انشاء اللہ ۲۲ / اگست کو لنڈن پہنچے گی۔اس سفر میں بھی بعض جگہ سیکنڈ اور تھرڈ کا جھگڑا کرنا پڑے گا۔یہاں سے تھرڈ لگے گی۔راستہ میں تھر ڈکٹ جائے گی پھر کسی تھرڈ کا تھر و (through) ٹکٹ مل جائے گا پھر دو جگہ بدل کر گاڑی سیدھی لنڈن جائے گی رود بارانگلستان جہاز کے ذریعہ سے پار کرنا ہوگا۔خان صاحب فرماتے ہیں کہ حضور نے کھانے کے بعد فرمایا کہ مکھن خراب تھا کیونکہ کھانے کے بعد متلی شروع ہو گئی۔آج تین بجے سے چار بجے بعد عصر تک حضور برٹش فضل کی ملاقات کے واسطے تشریف لے جائیں گے۔تفصیل ملاقات انشاء اللہ پھر عرض کروں گا اگر کچھ معلوم ہوا تو۔حیفا میں شوقی آفندی کے باپ کے سٹیشن پر آنے کے متعلق پہلے حیفا والے خط میں ذکر کر چکا ہوں کہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے فرمایا تھا کہ دو شخص ملاقات کو سٹیشن پر آئے تھے ان میں سے ایک شوقی آفندی کا باپ تھا مگر آج کے خط میں اوپر لکھا گیا ہے بروایت عرفانی صاحب کہ شوقی آفندی کا باپ ملاقات کو نہ آیا تھا بلکہ چچا آیا تھا۔مولوی عبدالرحیم صاحب در دفرماتے ہیں کہ چچا اور باپ دونوں تھے۔اب باپ کے آنے کو چھپایا جاتا ہے کہ اس کی کسرشان نہ ہو۔ایک پستہ قد آدمی تھا