سفر یورپ 1924ء — Page 136
۱۳۶ سے ممکن کم اخراجات کئے جائیں مگر یہاں اگر روکھی روٹی کھا کر کچھ بچایا جاتا ہے تو کوئی دوسری راہ ایسی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ساری کسر پوری کر جاتی ہے۔پونڈ کے سوا بات ہی نہیں ہوتی۔لیرے، قرش یا پیا سٹر کی تو اب یہاں کوئی حقیقت ہی نہیں۔یورپ کے فرنشڈ ہوٹل ان کے گڑے اور پلنگ مثل ریشم کے لچکدار - گد میلے اور قالین میز کرسیاں اور آئینے سلیچیاں اور ٹوال الماریاں اور نیز روشنی اور گرم سرد پانی کے نظام، کھانے کے تکلفات اور پانی کی صراحیاں۔مکانات کی سجاوٹ اور پاخانوں تک کی صفائی وغیرہ میرے جیسے آدمی کے لئے تو کم از کم صحابہ رضوان اللہ علیھم کی فتوحات کے زمانوں کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔شاہی رومال میں حضرت ابوھریرہ کا تھوکنا یا د آ جاتا ہے۔میرے ساتھ تو یقیناً سید نافضل عمر اس صحابی کوسونے کے کڑے پہنانے والا معاملہ فرمارہے ہیں۔خدا کرے کہ روحانی فتوحات اور حقیقی غلبہ اسلام کا زمانہ بھی ہمیں دیکھنا نصیب ہو اور وہ وقت بھی ہم دیکھیں کہ جب یہ لوگ با این ساز وسامان خدائے واحد کے بندے بن کر اسی کے دروازے پر جھکیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کی غلامی کے جوئے کو اپنے کندھوں پر دل سے اُٹھا ئیں اور حضرت احمد کی صداقت ان پر روز روشن کی طرح کھل جائے۔یہ خدا کے ہوں اور خدا ان کا ہو جائے آمین ثم آمین۔۱۸ / اگست ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز کے بعد سے ہوٹل کی تبدیلی کے انتظامات اور سامان کی نقل و حرکت میں مصروف ہیں۔کنگ کے آدمی کو پکڑا کہ تم نے دھوکا کیا کل کہا کہ کھانا پکانے کی اجازت ہو گی مگر ان لوگوں نے پکانے نہ دیا۔آخر معلوم ہوا کہ ہوٹل کی عورتوں نے بدعہدی کی۔اقرار کر کے پھر انکار کیا۔آخر آج ان کا ہوٹل چھوڑ دیا گیا۔۱۰ بجے چوہدری فتح محمد صاحب اور عرفانی صاحب بھی تشریف لے آئے اور اس طرح سے پھر خدا کے فضل سے بچھڑے مل کر قافلہ پورا ہو گیا ہے۔ان کی کہانی بھی عجیب ہے۔فضل برٹش نے حیفا میں ان کی ہر طرح سے امداد کی اور ریلوے والوں کو ہر ممکن آرام پہنچانے کا حکم دیا چنانچہ حیفا سے غازہ تک وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر کے آئے حالانکہ ٹکٹ ان کا تھرڈ کلاس تھا۔دو ڈی ، ٹی ایس (D۔T۔S) ان کی خدمت کے لئے متعین کئے گئے۔ہر سٹیشن سے ان کی خبر گیری کے ٹیلیفون ہوتے تھے۔غازہ سے پسنجر ٹرین کی بجائے گڈز ٹرین ہو گئی اس میں بھی گارڈ کے بریک میں جگہ دی گئی۔