سفر یورپ 1924ء — Page 460
۴۶۰ چوہدری فتح محمد خان صاحب نے عرض کیا کہ حضور کیا یہ لباس مبلغین کا مستقل لباس تجویز ہو چکا ہے؟ حضور نے فرمایا ہاں مگر پگڑی یہ نہیں یہ مرینہ کی پگڑی بہت بوجھل اور بھاری ہے کوئی ہلکی پگڑی تجویز کرنی چاہئے۔چوہدری صاحب نے عرض کیا حضور کوٹ بھی یہ زیادہ لمبا ہے اس میں بھی کچھ ترمیم ہونی چاہئے۔یہ گفتگو بہت دیر تک جاری رہی اور لباس کے مختلف پہلوؤں پر بحث ہوتی رہی۔تجاویز ہوتی رہیں۔ہمارے اس سفر میں اس لباس کے اثر کا بھی ذکر رہا۔لنڈن میں اس کو کس نگاہ سے دیکھا گیا یہ بھی ایک سوال تھا۔اس پر باتوں باتوں میں ایک دوست کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نکلے جن کا لہجہ قابل اعتراض تھا۔حضور نے اس کو نا پسند کیا اور اس کے خلاف بہت کثرت سے واقعات اور دلائل حضور نے بیان کئے۔(تفصیل لکھے بغیر نہ بات پوری لکھی جاتی ہے نہ بات کی حقیقت کا پتا لگ سکتا ہے۔تفصیل لکھنے میں بعض مشکلات بھی ہیں مگر چونکہ غالباً نفع سے نقصان بڑھ جانے کا اندیشہ ہے اس وجہ سے ان کو چھوڑنا پڑتا ہے ) حضور نے یہ بھی دوران گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے مبلغ خاص پرسنلیٹی (Personalty) کے ہوتے ہیں جبھی تو ان کو ایک ایسے اہم ذمہ داری کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو ایسا بنا کر رکھیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہ آئے اور نہ کسی کو جرات ہو۔ان کو خدا نے ہر قسم کے علوم کا ذخیرہ دے کر ترقی کرنے اور اعلیٰ مدارج پر پہنچنے کے سامان پیدا کئے ہوئے ہیں۔وہ چاہیں تو علم میں ، اخلاق میں ، تربیت میں اور کیریکٹر میں اپنی پوزیشن کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ تمام لوگ ان کا اعزاز کریں ان کا اکرام کریں وغیرہ۔مسٹر گاندھی جیسا آدمی جس لباس میں رہتا ہے میں نے سنا ہے خود بعض انگریزوں نے مجھ سے کہا ہے کہ مسٹر گاندھی بڑے مضبوط اخلاق کا انسان ہے۔وجہ پوچھی تو کہا کہ دیکھو کیسے سادہ لباس میں رہتا ہے۔اس کا وہ لباس جس میں وہ رہتا ہے کیا وہ یورپ کا لباس ہے؟ ہرگز نہیں۔تو پھر کیوں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کیوں لوگ اس کو نفرت سے نہیں دیکھتے ؟ افریقہ کے بعض بیرسٹر کچہری تک میں کیوں ادہر و تجھے میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور ان کو کوئی حقارت سے نہیں نکال دیتا ؟ قومی لباس کی اگر انسان خود عزت نہ کرے اور غیر قوموں کی غلامی میں ایسا گر جائے کہ