سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 459 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 459

۴۵۹ رہ نہ جائیں۔اس نے عرض کیا ہے کہ ۹ بجے سے پہلے جہاز روانہ نہ ہو سکے گا۔اتنے میں شیخ صاحب مصری آگئے۔حضور نے دیکھ کر فرمایا کہ میں سمجھتا تھا کہ آپ نہیں آئے چنانچہ اسی وقت افسر جہاز سے کہہ دیا کہ ہمارے آدمی آگئے ہیں کوئی گھبراہٹ نہیں۔حضور نے جہاز سے اتر کر اؤل تار گھر سے تار کا پتہ کیا ہے پھر دفتر کمپنی جہاز میں تشریف لے گئے مگر وہاں بھی کوئی تار نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ کی تمام ڈاک ایجنٹ کے ہاتھ جہاز پر بھیج دی گئی ہے۔حضور نے ان کو پتا دیا کہ اگر جہاز کی روانگی کے بعد کوئی تار آ وے تو بے تار برقی پیغام کے ذریعہ سے بھجوا دیں۔اگر بمبئی پہنچنے کے بعد آوے تو پنجاب کا پتا دیا اور حضور عدن کے حوض تالاب اور باغیچہ کو دیکھنے تشریف لے گئے جن کے متعلق مشہور ہے کہ شدا د کا بنایا ہوا ہے۔وہاں بچے تھے انہوں نے دیکھ کر حضور کو پکارا۔بابا نو مدر نو فادر ( یتیم ہیں ) حضور نے ان کو کچھ دینا چاہا مگر ریز گاری نہ ملی صرف ایک دونی نکلی جو حضور نے ان میں سے ایک لڑکے کو دے دی جوا و پر آیا تھا۔نیچے کے بچوں نے پوچھا کہ بتا تو جائیں کہ آپ نے کیا دیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ایک دونی۔موٹر بگڑ گئی تھی ذرا دیر ٹھہر نا پڑا۔حضور کے گرد اور بہت سے لڑ کے جمع ہو گئے۔حضور نے ان کو بھی پیسے وغیرہ تڑوا کر دیے۔واپسی پر سمندر کے کنارے پہنچ کرتا رگھر میں ایک تار دیا ہند کو ( غالباً قادیان ) اور دوسرا لنڈن کو اور جہاز میں تشریف لے آئے۔کھانا ہو چکا تھا۔حضور کو بھوک تھی۔ہمارا کھانا بھی ابھی تیار نہ تھا کہ رحمد بن ابھی آیا تھا۔کچھ سالن جو حضور کے لئے دو پہر کو تیار کرایا تھا موجود تھا گرم کر کے پیش کیا اور ڈبل روٹی حضور نے کھائی۔نمازیں پڑھائیں اور پھر دس بجے کے قریب حضور کمرے میں تشریف لے گئے۔جہاز ۹ بجے کے بعد عدن پورٹ سے روانہ ہوا اور اب ہند کو آ رہا ہے۔۱۳ نومبر ۱۹۲۴ ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہیں لائے۔نماز میں رات سے جانب شمال کو رخ کر کے پڑھی جاتی ہیں۔۸ بجے کے قریب حضور تشریف لائے اور ایک بجے کے قریب تک تشریف فرما ر ہے۔فرمایا رات پیٹ میں درد رہی ہے اور اب بھی ہے۔ایک دست بھی ہو گیا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے دوائی دی۔