سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 461 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 461

۴۶۱ اس کا قومی لباس کوئی باقی ہی نہ رہے تو اس کا کیا حق ہے کہ لوگ اس کی عزت کریں۔جس قوم کے پاس اپنا لباس تک نہیں اس کا کیا حق ہے کہ وہ دوسروں کو ایسی باتیں منوانے کے لئے نکلے جو انسان کی روح کے ساتھ تعلق رکھتی اور ابد الآباد تک کام آنے والی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ - ایک مفصل اور مشرح تقریر تھی جو شاید ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ دیر تک رہی۔ان بزرگ نے عرض کیا حضور میرا مطلب یہ نہ تھا مگر فرمایا کہ ” میں اردو خوب سمجھتا ہوں۔کھانے کی گھنٹی ہوئی اور حضور تشریف لے گئے۔نمازیں ظہر و عصر کی جمع کر کے پڑھائیں اور پھر کچھ فروٹ کا ناشتہ فرمایا۔کھجورا چھی نہ تھی پسند نہ کی اور لیڈی نکین کی ملاقات کا ساڑھے پانچ بجے کا وقت مقرر تھا۔تشریف لے گئے میں نہ جاسکا کیونکہ وہاں عام جا نا منع تھا اس وجہ سے بالفاظ نیز صاحب لکھتا ہوں۔یہ ملاقات محض تعارف کے لئے تھی، کیونکہ لیڈی لٹمین حسن اتفاق سے اسی جہاز میں سفر کر رہی ہیں۔مزاج پرسی کے بعد لیڈی صاحبہ نے عرض کیا کہ ہمیں نیز صاحب نے سلسلہ کے متعلق کچھ سنایا ہے مگر میرے ساتھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ حضور کی زبان سے کچھ سنیں۔حضور نے سلسلہ کے حالات وقت کے تقاضا کوملحوظ رکھتے ہوئے ۲۰ منٹ تک زبان انگریزی میں حضرت مسیح موعود کے دعاوی اور آپ کی مخصوص تعلیم بیان فرما ئیں جس میں کلام الہی کا جاری رہنا۔حیات بعد الموت اور روح کی پیدائش وغیرہ مسائل کی نہایت عمدگی سے تشریح فرمائی۔سوال کیا گیا کہ یہ باتیں تو ہندو مذہب میں پائی جاتی ہیں کہیں کہیں جزوی اختلاف ہے تو اسلام کو اس بارہ میں کیا خصوصیت ہے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ جزوی اختلافات سے بڑے بڑے اثرات ظاہر ہوتے ہیں چنانچہ علم طب میں اگر تین قطروں کی بجائے بعض ادویہ کے چار پانچ قطرے کر دیئے جائیں تو بجائے فائدہ کے بعض اوقات ضرر ہو جاتا ہے اس لئے جزوی اختلافات اپنی جگہ ضرور اثر رکھتے ہیں اور نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔سوال: کیا ہندو مذہب میں بھی سچائی ہے؟ حضور نے فرمایا: ہاں ہندو مذہب کی بنیا دسچائی پر تھی لیکن اب موجودہ ہندو مذہب میں خرابیاں واقع ہوگئی ہیں اور اصلاح کی ضرورت ہے۔