سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 430 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 430

۴۳۰ ہاتھ اُٹھائے اور سرزمین یورپ خصوصاً اٹلی کے لئے ایک مرتبہ پھر دعائیں کیں۔دعا کے بعد حضور سب سے پہلے گنڈ ولے میں بیٹھے بعد میں دوسرے دوست اور یہ کشتیاں جہاز کے قیام گاہ کی طرف جلد جلد چلنے لگیں۔چونکہ آخری خبر یہ لی تھی کہ جہاز شام کے آٹھ بجے روانہ ہو گا لہذا حضور نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو بھی ساتھ لے لیا اور تمام قافلہ جہازران کمپنی کے دفتر کے سامنے جہاں ایک خوبصورت پلیٹ فارم کے ساتھ پلسنا جہاز کھڑا تھا ۲ بجے کے قریب جا پہنچا اور حضور اترتے ہی جہاز کے اندر تشریف لے گئے۔حضور کا کمرہ نمبر ۵۹ فرسٹ کلاس ہے۔وینس اور اٹلی کا پہلا شیریں پھل : کل قبل دو پہر جب کہ حضور مع خدام کک کے دفتر میں روپیہ کے واسطے تشریف لے گئے تھے حضور تو کٹک کے دفتر کے اندر چلے گئے اور ہم لوگ باہر چوک میں لوگوں کے تماشا گاہ بنے رہے۔انگریزی دان اصحاب نے بعض لوگوں کو جو انگریزی سمجھ سکتے تھے تبلیغ شروع کر دی۔خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب جس حلقہ میں کھڑے تھے وہیں ایک نوجوان آن پہنچا۔خان صاحب نے اس سے پوچھا کیا تم انگریزی جانتے ہو۔اس نے اثبات میں جواب دیا۔تب خان صاحب نے اس کے ذریعہ سے لوگوں کو اول تعارف کرایا کہ ہم لوگ کون ہیں۔پھر سلسلہ کے حالات بتائے۔اور سلسلہ کی شاخوں کا ذکر کیا کہ کہاں کہاں ہیں۔وہ نو جوان اوروں کو تو حالات سناتا تھا مگر دل اس کا پکڑا گیا۔اس نے خان صاحب سے سوال کیا کہ اٹلی میں بھی آپ کی جماعت کا کوئی آدمی ہے؟ خانصاحب نے کہا کہ اب تک تو نہیں مگر یقین ہے کہ حضرت کا آنا ضرور ایک نہ ایک دن پھل لائے گا۔تب بے ساختہ اس نوجوان نے کہا ”تو پھر اٹلی میں میں سب سے پہلا پھل یعنی احمدی ہوں۔جس محبت جس اخلاص اور جس جرات سے اس نے یہ الفاظ کہے ان سے خان صاحب کو یقین تھا کہ وہ جو کچھ کہتا ہے دل سے کہہ رہا ہے۔اس نے اور حالات سلسلہ سننے کی درخواست کی جو مختصر أخان صاحب نے اس کو سنائے اور کہا کہ میں اب بازار جاتا ہوں آپ دو بجے کے بعد ہوٹل میں آئیں چنانچہ وہ دو بجے کے بعد ہوٹل میں آیا۔خان صاحب نے حضرت اقدس سے بھی مصافحہ کرایا اور پھر تبلیغ کرتے رہے۔ایک کتاب بھی (احمدیت ) دی اور پھر رات کو آنے کی تاکید کی۔اس نے احمدی سلام کا طریق پوچھا جو بتایا گیا کہ ہم لوگ ایک دوسرے کو ملتے وقت اور رخصت ہوتے وقت السلام علیکم کہا کرتے ہیں۔تب اس نے جدائی کے وقت انہی