سفر یورپ 1924ء — Page 431
۴۳۱ الفاظ میں سلام کہا اور پھر رات کو آیا۔حضور سیر کو تشریف لے جا رہے تھے ساتھ گیا مگر ادب رعب اور محبت کی وجہ سے حضرت اقدس سے تو ہمکلام نہ ہو سکا خان صاحب ہی سے باتیں کرتا رہا اور پھر صبح کو آنے کا وعدہ کیا۔کتاب کا بھی کچھ حصہ پڑھا اور صبح کو پھر آن موجود ہوا۔خان صاحب کو حضرت اقدس نے پہلے جہاز پر جا کر بعض انتظامات کا ارشاد فرمایا تھا۔جب گنڈ ولا میں بیٹھے تو وہ پھر السلام علیکم کہ کر بہت محبت اور پیار سے رخصت ہوا۔حرام اور حلال کی تفصیل پوچھی اور کہا کہ میں اب تبلیغ کرنی شروع کر دوں گا کہ مسیح موعود آ گیا مگر خان صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے کہا کہ کتاب کو پہلے اچھی طرح سے پڑھ لو پھر تبلیغ کرنا۔اس نے کہا میں نے پڑھ لی ہے۔خان صاحب نے کہا ایک مرتبہ اور پڑھو بلکہ پورے تین مرتبہ پڑھ کر تبلیغ شروع کرنا۔تب اس نے کہا بہت اچھا اور بہت پیار سے رخصت ہوا۔خان صاحب نے تاکید کی کہ جہاز پر آ کر حضرت اقدس کو ضرور ملنا اور رخصت ہوئے۔تب پھر اس نے السلام علیکم عرض کیا اور رخصت ہو گیا۔خان صاحب کی کشتی چکر کھا کر جاتی تھی۔وہ دوڑ کر ایک جگہ کھڑا ہوا جہاں سے وہ کشتی گزرنے والی تھی اور جب کشتی برابر آئی اس نے بآواز بلند السلام علیکم کہا۔خان صاحب حیران تھے اور ادھر اُدھر دیکھتے تھے کہ کس نے السلام علیکم کہا ہے۔یکا یک جہاز کے ٹیشن پر کنارہ کی طرف نظر پڑی اور دیکھا کہ وہ عزیز کھڑا ہے جس کا نام رینو کیپلیو (Rino Cappellato ) ہے۔تب خان صاحب نے اس کو وعلیکم السلام کہا اور پھر وہ رخصت ہو گیا۔خان صاحب تو جہاز میں چلے گئے اس کو کسی وجہ سے روک پیدا ہوگئی اور جہاز پر نہ پہنچا۔ایک خط مکر می شیخ صاحب مصری کو لکھ کر جب کہ وہ چوک میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ فوٹو لے رہے تھے دے گیا۔( یہ خط ۲ نومبر ۱۹۲۴ء کا لکھا ہے۔) یہ عزیز نو جوان وینیس کے جزیرہ لیڈو میں رہتے ہیں۔پہلے ان کے چچا کا دینیس میں ہوٹل تھا اس کے منیجر تھے۔آج کل شاید کسی اور کام میں ہیں۔وہ ہوٹل ختم ہو چکا ہے۔دوست ان کی استقامت اور روحانی ترقی کے لئے دعائیں کریں۔جہاز کے اندر پہنچ کر سامان وغیرہ درست کرنے اور کمرے اور جگہ لینے میں قریباً دو گھنٹے خرچ ہو گئے۔نمازیں حضور نے ظہر وعصر کی جمع کر کے ہمارے قیامگاہ میں پڑھا ئیں۔ہمیں وہی