سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 389 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 389

۳۸۹ ایک ڈاکٹر کو اس امر کا اہل سمجھتے ہیں کہ وہ جب سمجھے کہ ہمارے جسم کو چیرنے کی ضرورت ہے اسے چیرنے دیں کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری صحت اس چیر نے پھاڑ نے سے وابستہ ہے مگر کیا یہ امر تعجب کے قابل نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اور اس کے فیصلہ پر اعتراض کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس نے اختلاف کے سامان کیوں پیدا کئے مگر حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کے ذریعہ سے اختلاف پیدا نہیں کرتا بلکہ اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔نبی سورج کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے آنے سے دلوں کی حالت ظاہر ہو جاتی ہے جس طرح سورج کے نکلنے سے رنگوں کا اختلاف ظاہر ہو جاتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سورج بُری چیز ہے؟ کیونکہ اس کے نکلنے سے دنیا کی یک رنگی جاتی رہی اور مختلف رنگ نظر آنے لگے ہیں اور کئی چیزوں کی میل اور گندگی ظاہر ہوگئی ہے۔اگر سورج کے نکلنے پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا تو نبی کی آمد پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اختلاف پیدا نہیں کرتا بلکہ اختلاف کو ظاہر کر کے اس کے دور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس قدر نبی آئے ہیں پہلے ان کے زمانہ میں اختلاف ہوا ہے پھر ان کے ذریعہ سے اتحاد قائم ہوا ہے۔اگر وہ نہ آتے تو اتحاد بھی کبھی نہ ہوتا۔غرض اے عزیز و! اگر ایک مدعی کی سچائی ظاہر ہو جائے تو اس قسم کے شبہات کی وجہ سے اس کے ماننے میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔کیا آپ دیکھتے ہیں کہ مسیح موعودؓ کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کیا کچھ کیا ہے۔کہتے ہیں کہ مسلمان ہیں کروڑ سے زیادہ ہیں مگر کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اس بیس کروڑ کو ( دین ) کی خدمت کی وہ توفیق نہیں ملتی جو مسیح موعود کی پیدا کردہ قلیل جماعت کر رہی ہے۔یہ امر اس امر کا ظاہر ثبوت ہے کہ ( دین ) کا مستقبل مسیح موعود کے ساتھ وابستہ ہے اور ہر شخص جو (دین) سے انس رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ اس کی جماعت میں داخل ہو کر اس ذمہ داری کو پورا کرے جو ہر فرد بشر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہے۔بے شک تکالیف ہوں گی اور لوگوں کے طعنے بھی سنے ہوں گے مگر ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والوں کے لئے یہ باتیں لازم رہی ہیں اور آپ اس سے بچ نہیں سکتے۔ان قربانیوں کے مقابلہ میں جو ہمیں سچائی کے قبول کرنے میں کرنی پڑتی ہیں اس عظیم الشان نتیجہ کو نہیں بھولنا چاہئے۔جو ان قربانیوں کے بغیر نکلے گا اور اگر کوئی نتیجہ بھی نہ نکلے تو کیا ہمارا فرض نہیں ہے کہ ہم جو کچھ منہ سے کہتے یا دل میں سمجھتے ہیں اس کی سچائی کو اپنے عمل سے ثابت کر دیں ؟