سفر یورپ 1924ء — Page 390
۳۹۰ اے عزیزو! میں نے خدا تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچا دیا ہے اور اب میں خدا تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہوں۔میں جب اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی دینوی زندگی کو پورا کر کے حاضر ہوں گا تو اس سے کہوں گا کہ اے میرے رب میں نے تیرا پیغام نہایت کھلے لفظوں میں سنا دیا تھا آگے اس کا منوانا میرے اختیار میں نہ تھا۔جو لوگ آپ میں سے ایسے ہوں کہ ابھی ان پر مسیح موعود کی سچائی نہ کھلی ہو ان کو میں اس ذریعہ یقین کی طرف توجہ دلاتا ہوں جسے مسیح موعود نے تجویز کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ متواتر کئی دن تک خدا تعالیٰ سے دعا کر کے سوئیں کہ اے خدا اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کی سچائی ہم پر کھول دے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقیناً ان پر خدا تعالیٰ مسیح موعود کی سچائی کھول دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو گمراہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ان کی ہدایت چاہتا ہے اور خدا کے فیصلہ سے اچھا فیصلہ اور کونسا ہوسکتا ہے۔اے عزیز و! اب میں اس دعا پر اس پیغام کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں کو کھول دے اور سچائی کو قبول کرنے کی توفیق دے تا کہ آپ کی منتیں ضائع نہ جائیں اور تا ایسا نہ ہو کہ ایک طرف تو آپ اپنے عزیزوں سے مذہب کی خاطر قطع تعلق کریں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے بھی آپ کا تعلق پیدا نہ ہو-اللهم آمین اے اللہ تو ان لوگوں کو بھی جو اس وقت یہاں بیٹھے ہیں اپنی مرضی کے سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق دے اور ان کو بھی جو دنیا کے چاروں گوشوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور تو رحم کرنے والا مہربان ہے۔آمین۔مضمون بالا پونے چار بجے سے جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے پاس پہنچنا شروع ہوا اور ساڑھے پانچ بجے کے قریب انہوں نے اس کا ترجمہ کر کے حضرت اقدس کے حکم سے حضور کے سامنے سنا دیا - فجزاهم الله احسن الجزاء في الدنيا و الآخرة- ہر کسے را بہر کاری ساختند - ترجمہ ختم ہونے سے ذرا پہلے جب کہ اکثر مہمان جمع ہو گئے تھے سید نا حضرت خلیفۃ المسح نیچے مہمانوں میں تشریف لے آئے اور فرداً فرداً لبعض سے گفتگو ہوتی رہی۔جب ترجمہ تیار ہو گیا چوہدری صاحب نیچے آئے تو پہلے نیر صاحب نے چند کلمات اپنے طرز پر پُر جوش لہجہ میں لوگوں کو