سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 388 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 388

۳۸۸ اور اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی طرف بلاتے تھے ورنہ یہ لوگ ہمارے جیسے آدمی تھے۔اگر خدا تعالیٰ کی آواز ان کے پیچھے نہ ہوتی تو ان کو کوئی رتبہ حاصل نہ تھا۔پس اصل آواز خدا کی ہے خواہ وہ کسی منہ سے نکلے اس کا قبول کرنا ضروری ہے اور اس کی طرف سے بے پروائی کرنے سے کبھی روحانی ترقی حاصل نہیں ہوتی۔پس اب جبکہ خدا تعالیٰ مسیح موعود میں ہو کر بولا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اس کی آواز کی طرف توجہ کریں اور اپنی مرضی کو اس کی مرضی پر مقدم نہ کریں۔اے ہمشیرگان و برادران ! آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک قدم اُٹھایا ہے مگر کیا جب آپ کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی رضا دوسرے قدم کے اُٹھانے کے بعد مل سکتی ہے تو کیا آپ دوسرا قدم نہیں اُٹھا ئیں گے اور صرف اس امر پر کفایت کریں گے کہ جو ہم نے کرنا تھا کر لیا۔بے شک آپ کا حق ہے کہ آپ اس امر پر غور کریں کہ مدعی کا دعوی سچا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ثابت ہو تو اس سے جھوٹوں والا سلوک کریں اور اگر وہ پاگل ثابت ہو تو اس سے پاگلوں والا سلوک کریں۔یہ آپ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اگر وہ سچا ہے تو بھی ہمیں اس کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔اس کا بغیر کسی جدید قانون کے آنا ہر گز اس امر کا بھی مجاز نہیں کر دیتا کہ ہم اسے قبول نہ کریں۔یوشع ، داؤڈ ، سلیمان ، یوحنا میسیج بغیر کسی نئے قانون کے آئے تھے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا۔حق یہ ہے کہ نبی صرف نئی شریعت کے بیان کرنے کے لئے نہیں آتے بلکہ بسا اوقات وہ نئی روح کے پیدا کرنے کے لئے بھی آتے ہیں اور اس کے لئے ضرورت ہے کہ لوگ ان سے تعلق پیدا کریں۔پس خدا تعالیٰ اپنی رضا کو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ کر دیتا ہے تا لوگ مجبور ہوں کہ ان کا ساتھ دیں اور اس طرح وہ اتحاد پیدا ہو اور وہ روح پیدا ہو جس کے پیدا کرنے کے لئے ان کو بھیجا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف بُری چیز ہے لیکن کون نبی آیا ہے جس کے آنے سے یہ ظاہراً اختلاف نہ پیدا ہوا ہو۔کیا موسیقی کے وقت میں کیا مسیح کے وقت میں کیا نبی کریم کے وقت میں اختلاف پیدا نہیں ہوا ؟ کیا پھر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کو دعوی کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ہم دنیا میں