سفر یورپ 1924ء — Page 336
۳۳۶ پڑھتے پڑھتے حضور کی طبیعت خراب ہوئی۔( چوہدری علی محمد صاحب کہتے ہیں کہ غالبا اس دعوت کے متعلق کوئی نوٹ اخبار میں نکلا ہوگا ) کھانے کے میز پر اس دعوت کے وقت وغیرہ کا ذکر آ گیا۔حضور نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ میں تو اس دعوت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ ہند وستانی احمدیوں کے نائب کی شکل میں ہمیں ظاہر کیا گیا ہے۔خلافت کا مقام بہت ہی نازک مقام ہے۔بات بات پر ، لفظ لفظ پر نقطہ نقطہ پر بلکہ خلیفہ کی ہر حرکت وسکون پر دنیا بعد میں بحث اور تنقید کرے گی۔دیکھئے حضرت مسیح موعوڈ کے لفظ لفظ پر کس طرح بحث ہو رہی ہے۔مسجد کا معاملہ اب تک ہمارے گلے کا ہار بنا آ رہا ہے۔( غالبا مسجد بھیرہ کا معاملہ حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ) غرض جب تک میز پر تشریف فرما رہے قریباً ایسی ہی گفتگو رہی۔حافظ صاحب ، مصری صاحب، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور اور دوستوں نے اور نیر صاحب نے بھی بہت کچھ عرض معذرت کی مگر حضور نے نہ مانا۔لوگوں نے عرض کی حضور آج بڑے بڑے لوگ حضور نے چائے پر بلائے ہوئے ہیں ان پر اس بات کا گہرا اثر پڑے گا اور سلسلہ کی تبلیغ میں سخت روک ہو جائے گی۔حضور نے فرمایا وہ نقصان عارضی ہے اور اس نقصان کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضور نے اس کے نقصانات کو مفصل اور بار بار افسوس سے ظاہر فرمایا اور فرمایا کہ ترقی کرنے والی قوم کے افراد کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے اور تول تول کر زبان سے لفظ نکالنے چاہئیں کیونکہ ان الفاظ کا اثر نہ صرف یہیں ختم ہو جاتا ہے بلکہ آئندہ بھی ان کا سلسلہ جاری رہنے والا ہوتا ہے۔عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بات پر بات تکلیف و رنج کی پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضور کھانے کے میز سے ابھی اُٹھے بھی نہ تھے کہ ایک اور ایسا ہی قضیہ پیش آ گیا جو یہ تھا کہ آج کے دوپہر کے کھانے پر خان صاحب نے ایک خان بہادر صاحب کو دعوت دے رکھی تھی جن کے واسطے کھانا بھی خاص پکوا رکھا تھا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ جب کھانے کا وقت ہوا تو دونوں صاحب موجود نہ تھے۔مہمان آئے جو ۶ کس تھے۔حافظ صاحب ان سے تبلیغی باتیں بھی کرتے رہے مگر سب نے یہی سمجھا کہ طلباء ہیں۔شوق سے آگئے ہیں۔کسی نے ان کا نام تک بھی نہ پوچھا حتی کہ ان کے بیٹھے بیٹھے کھانے کی گھنٹی ہوئی مگر کسی نے ان سے نہ کہا کہ کھانا کھا ئیں کیونکہ جن کو علم تھا وہ موجود نہ تھے۔دوسرے جرات نہ کرتے تھے کہ ۶ آدمیوں کو کیونکر کر کھانے پر بلائیں۔