سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 337 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 337

۳۳۷ آخر نیز صاحب اتفاقاً کھانے کے کمرے میں آئے تو میں نے ان کو توجہ دلائی اور عرض کیا کہ بہتر ہو اگر اپنے چند دوست اس وقت کھانے پر نہ بیٹھیں اور ان کو بٹھا دیں۔( کیونکہ ہماری میز پر اتنی گنجائش ہے کہ زیادہ سے زیادہ سترہ آدمی بیٹھ سکتے ہیں اور آج کل کھانا ہمارے ہاں تھیں بنتیں آدمیوں کا پکتا ہے) چنانچہ نیز صاحب نے کہا کہ بعض دوست بازار بھی تو گئے ہوئے ہیں ان کی جگہ بھی تو خالی رہے گی۔مل ملا کر کام ہو جائے گا۔اچھا میں ان کو لاتا ہوں۔چند اور دوست بھی جو اس وقت میز پر موجود تھے متفق ہوئے اور اس طرح فیصلہ یہی ہوا کہ ان کو بلا لیا جائے مگر وائے شامتِ اعمال کہ نیر صاحب بجائے ان کو بلانے کے کسی اور کام میں لگ گئے اور بھول گئے اور حضرت اقدس تشریف لے آئے اور کھانا شروع بھی ہو گیا کہ بازار سے آنے والے کسی دوست نے عرض کی حضور چند دوست ملاقات چاہتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں آج بہت مصروف ہوں اور مضمون لکھ رہا ہوں ملاقات کیسے ہو سکتی ہے۔چنانچہ وہ دوست واپس گئے اور ان مہمانوں کو ( جن میں سے در حقیقت ایک صاحب کی دعوت تھی اور باقی یونہی آگئے تھے ) معذرت کر کے کہ حضرت اقدس بہت مصروف ہیں رخصت کر دیا اور وہ چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد خان صاحب بازار سے کھانے کے عین آخر پر آگئے اور پوچھا کہ کیا خان بہا در تشریف نہیں لائے؟ دوستوں نے کہا کہ کوئی ۶ آدمی آئے تھے مگر چلے گئے ہیں اور تمام واقعہ کہہ سنایا۔اس پر خان صاحب نے کہا کہ ان کو تو کھانے پر بلایا گیا تھا۔بس حضور کو اس بات سے بہت رنج ہوا اور فرمایا کہ مہمانوں کو کھانے پر بلا کر پھر خالی بھیج دینا کیسی خطرناک حرکت ہے۔وہ کیا خیال کرتے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔حضور کھانے سے فارغ ہو کر کمرہ میں تشریف لے گئے۔پیچھے سب نے مل کر مشورہ کیا کہ اگر خدانخواستہ حضور آج کی دعوت چائے پر تشریف نہ لے گئے تو اس کا اتنا برا اور گہرا اثر ہوگا جس کا زائل کرنا مشکل ہو جائے گا۔سب مل کر چلو معافی مانگیں۔چنانچہ سب کے سب حضرت اقدس کے دروازہ پر حاضر ہوئے بہت کچھ عرض کیا۔معذرت کی۔معافی مانگی۔غلطی کا اقرار کیا اور خدا خدا کر کے جان میں جان آئی جب کہ حضرت اقدس نے یہ فرمایا کہ اچھا انشاء اللہ تعالیٰ میں چلوں گا مگر بات بہت ہی قابل افسوس اور نا قابل تلافی ہو چکی ہے وغیرہ وغیرہ۔