سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 258 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 258

۲۵۸ حالات جو سنائے گئے ہیں حسب ذیل ہیں۔پورٹ سمتھ میں 4 نفوس احمدی اب تک موجود ہیں جنہوں نے شکایت کی کہ ان کے پاس کوئی آدمی کبھی نہیں آیا۔حضرت اقدس نے رات کو ان کی دعوت کی اور ۱۲ بجے رات تک ان کو نصائح فرماتے رہے اور ان لوگوں نے بھی اخلاص کا اظہار کیا اور عقیدت دکھائی۔حضور نے فرمایا کہ مجھے افسوس تھا کہ ان علاقہ جات میں کوئی بھی احمدی نہیں مگر آج وہ افسوس جاتا رہا ہے اور دل کو خوشی ہے کہ یہاں بھی خدا تعالیٰ نے احمدیت کا پودا لگا دیا ہے۔میدان تبلیغ کے واسطے وسیع ہے بشرطیکہ یہاں اچھی طرح محنت سے کام کیا جاوے۔حضور پورٹ سمتھ کل ۱۲ بجے کے قریب پہنچے تھے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب اور ملک غلام فرید صاحب سٹیشن پر نہ تھے۔ان کو تار جو پہنچا تھا اس کی وجہ سے وہ ایک بجے سٹیشن پر آنے والے تھے مگر حضور پہلے جا پہنچے۔ٹائم ٹیبل کچھ ٹھیک طور سے جانچا نہ گیا ہو گا۔مولوی محمد دین صاحب کا لیکچر بہت گہرا علمی اور پبلک کی استعداد سے بڑھ کر تھا گو لوگوں نے توجہ سے سنا۔لیکچر گر جا میں ہوا۔حاضری ۶۰ یا ۰ ۷ نفوس کی بتائی گئی۔حضرت اقدس کا لیکچر پونے سات بجے شام کو اسی گرجا میں ہوا۔حضور نے اول زبانی انگریزی میں آٹھ یا دس منٹ تک تمہیدی تقریر فرمائی اور پھر اپنا مضمون خود پڑھا جو ایک گھنٹہ کے قریب وقت میں ختم ہوا۔مضمون اوپر درج کیا جا چکا ہے۔اس کی اہمیت اور مقبولیت کے متعلق میں کیا عرض کرسکتا ہوں وہ مضمون خود ہی گواہ ہے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب کا چہرہ بشاش ہے اور شاید سارا خون چہرے پر ہی جمع ہو گیا ہے۔ان کا کہنا ہے اور اس پر وہ مصر ہیں کہ وہ مضمون تو ایسا عجیب ہے کہ اس کی اشاعت لاکھوں کی تعداد میں کرنی چاہیے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے بلکہ بار بار کہتے ہیں کہ حضور کا مضمون لوگوں پر ایسا موثر تھا کہ تمام لوگ گو یا بت بن گئے ہوں اور کہ سارے کا سارا مضمون نہایت اطمینان، توجہ اور دلچسی سے سنا گیا اور کہ بے حد جاذب اور خارق عادت دلچسپ اور روحانی معلومات کا گویا ایک خزانہ ہے۔یہ تو وہ کچھ ہے جو ہمارے اپنے دوستوں نے سنایا۔بہت کریدا اور بار بار الگ الگ