سفر یورپ 1924ء — Page 257
۲۵۷ حضرت نے یہ بھی تجویز فرمائی ہے کہ جو مبلغ ہندوستان سے یہاں آیا کریں ان کو سیدھا اپنے مشن ہاؤس میں نہیں بھیج دینا چاہیے بلکہ ان کو اول دو چار ماہ تک حسب معمول یہاں کے کسی گھرانے میں رکھا جایا کرے تا کہ وہ یہاں کے آداب اور طرز بود و باش سے واقف ہو جایا کریں۔اس طرح یہاں کے لوگ آداب کی ناواقفیت کی وجہ سے حقارت یا نفرت نہ کرسکیں گے۔فرمایا کہ ہمارے موجودہ بعض مبلغین کے متعلق اس قسم کی شکایات بھی ہمیں موصول ہوئی ہیں کہ ان کی وجہ سے پڑوسیوں کو تکلیف ہوئی اور شکایت کا موقع ملا۔حضور نے جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو مخاطب کر کے یہ بھی فرمایا کہ جس علاقہ میں ہماری (البیت ) ہے اس کے گردو پیش کے لوکل لوگوں کو ایک وفد کی صورت میں مل کر ان کا عندیہ اور خیالات بھی سن لینے چاہئیں تا کہ اگر ان لوگوں کو کوئی شکایات ہوں تو ان کا انسداد کر دیا جائے تا وہ آئندہ میل جول میں بلا تکلف ہمارے مکان پر آیا جایا کریں۔ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں ہمارے مکان پر نہیں آتے یا کیوں وہ خلا ملا پسند نہیں کرتے۔اس طرح بھی بعض باتیں ایسی معلوم ہوں گی جو ہماری تبلیغ کے راستہ میں روک ہیں۔جنجوعہ صاحب کے قالینوں کے متعلق فرمایا کہ ان کا نمونہ ہمیں دکھایا جاوے ہم ویسے قالین مہیا کر دیں گے۔خواہ ۲۰۰ پونڈ خرچ ہو جائیں مگر ان کو نقد ۶۰ پونڈ نہ دیئے جائیں۔فرمایا کہ اگر پہلے سے علم ہوتا تو ان کو چار قالین شاید ہم ساٹھ روپے پر خرید کر کے دے دیتے۔بخارا کے قالین سرحد پر بکثرت ارزاں اور سستے ملتے تھے۔اب بھی ان کو امیران ہی سے منگا دیں گے۔ان سے نمونہ لے لیا جاوے اور ناپ اور سائز بھی۔پروٹسٹ میٹنگ کے لئے خان صاحب اشتہارات تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔نماز مغرب کے وقت بھی وہ بعض گرجوں کو گئے اور مصری صاحب کو اور ماسٹر نواب الدین صاحب کو بھی ساتھ لے لیا کہ کسی جگہ وہ جائیں اور کہیں خود خان صاحب تقسیم کریں۔۱۵ ستمبر ۱۹۲۴ء: پونے گیارہ بجے کے قریب حضور پورٹ سمتھ سے واپس تشریف لے آئے ہیں۔بعض ساتھی پیدل یا گاڑی سے پہلے مکان پر پہنچے اور حضور چند منٹ بعد تشریف لائے۔