سفر یورپ 1924ء — Page 188
۱۸۸ تعجب اور حیرت سے دیکھا جاتا ہے۔واپسی پر معلوم ہوا کہ دو تین لیڈیاں حضرت اقدس کی ملاقات کو آئی ہوئی ہیں اور حضور لائبریری میں ان کو انٹرویو دے رہے ہیں۔عرفانی صاحب نوٹ لے رہے ہیں۔ایک چلی گئی تو میں نے رپورٹ متعلق تار پیش کی۔پھر دوسری لیڈی کا وقت آگیا اور وہ انٹرویو کے لئے اندر چلی گئی۔مکرمی ماسٹر محمد دین صاحب اور عرفانی صاحب اندر ہیں۔مگر می مولوی نیر صاحب بعض اخبارات کے ہاں ہو کر آگئے ہیں۔اخبارات نے بطور ایک خبر کے شائع کرنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ڈیٹیلز (Details) کے منتظر ہیں۔مگر چوہدری صاحب اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد ابھی تک واپس نہیں آئے اور ایڈورٹائزمنٹ (Advertisement) کر نیوالی کمپنیوں کے دفاتر بند ہیں اس وجہ سے بجلی کے اعلانات اور پوسٹروں وغیرہ کا بھی ابھی کوئی بندوبست نہیں ہو سکا۔یہ حصہ تو رپورٹ لکھتے ہوئے بطور ایک حادثہ کے اچانک پیش آ گیا تھا جو لکھا اب آگے اصل رپورٹ لکھتا ہوں۔مضمون کے ترجمہ کو حضور نے لفظاً لفظاً خود سنا اور درست کرایا اور پھر کچھ اور مضمون بڑھانے کی غرض سے خود مضمون لکھنے بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں یہ تار پہنچ گیا جس کا ذکر اوپر کیا ہے-فانالله وانا اليه راجعون- کاش ہمارے حقیقی جاں نثاروں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو جائے جو یکے بعد دیگرے اگر ضرورت پڑے تو اس طرح خدا کی راہ میں کلمہ حق پہنچاتے ہوئے جانیں دیں پھر دیکھیں کہ کا بل کی حکومت کہاں تک ظلم کا دروازہ کھلا رکھتی ہے اور پھر کب تک قائم رہتی ہے یا پھر کلمہ حق کو عروج ہوا اور خدا کا نام اور اس کے رسول کا پاک کلام سرزمین کا بل کو فتح کرلے اور ان شہد آء کے سراس فتح کا سہرا بند ھے۔خیر یہ کام تو خدا کا ہے خدا خود کرے گیا۔ہمیں نیوں کا ثواب ملے گا اور مل کر رہے گا انشاء اللہ۔چوہدری فتح محمد خان صاحب اور مولوی عبد الرحیم صاحب در دکو اخبارات کے پاس گئے ) در ہوئے بہت دیر ہوگئی واپس نہیں آئے۔حضرت نے فرما یا غالبا اخبارات والوں نے زیادہ دلچسپی لی ہوگی اس وجہ سے دیر ہوئی چنانچہ وہی بات ہوئی جب وہ دس بجے رات کو واپس آئے تو انہوں نے