سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 187 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 187

۱۸۷ بڑے فون پر گئی ہے اور ہیڈ کوارٹر سے معلوم کر رہی ہے۔ابھی جواب نہیں آیا۔مجھے فرصت مل گئی اور میں لکھنے کھڑا ہو گیا۔حضور نے فرمایا کہ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ کا الہام میرے نزدیک اب پورا ہوا ہے کیونکہ مولوی عبد الرحمن صاحب کے متعلق اب تک بھی بعض افغان دوستوں کو شبہ ہے کہ وہ اس جرم میں نہ مارے گئے تھے بلکہ کسی اور جرم میں مارے گئے تھے اور پھر قتل کی نوعیت بھی ان کی مختلف تھی۔یہ دونوں قتل بذریعہ سنگساری یکساں ہیں اور اس طرح سے شَاتَانِ تُذْبَحَانِ اب پورا ہوتا ہے۔ہیڈ آفس سے جواب آ گیا ہے کہ ہمارا کوئی تھر و ( through) کنکشن کا بل سے نہیں ہے مگر ہیڈ آفس والوں نے بتایا ہے کہ ایسٹرن کمپنی والوں کے ذریعہ سے شاید کوئی صورت ممکن ہو سکے۔سواب وہ ایسٹرن کمپنی والوں سے معلوم کر کے پھر فون کرے گا تب ٹھیک معلوم ہو گا۔جواب کیلئے میں ٹیلیگراف آفس میں منتظر ہوں۔قادیان کی ڈاک : آج قادیان سے ۶ راگست کی چلی ہوئی ڈاک کے دو تھیلے حضرت کے حضور پہنچے ہیں جن میں احباب کے بہت سے خطوط ملے ہیں مگر مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کی شہادت کی خبر کی وجہ سے ہندوستانی ڈاک نے آج کوئی لطف نہیں دیا اور ایک لمبے عرصے کی انتظار کے بعد آنے والے خطوط سے کوئی خاص خوشی حاصل نہیں ہوئی۔فون کا جواب پھر آگیا۔لیڈی انچارج ( خدا ان کو ہدایت نصیب کرے اور مسلمان بنادے ) نے چیف آفس کو فون کیا۔ان کے جواب سے ہمیں مطلع کر کے خود دوسرے کام میں لگ گئی۔چیف آفس والوں نے ایسٹرن کمپنی سے دریافت کر کے پھر فون کیا اور بتایا کہ ایسٹرن کمپنی کابل کو تار بھیجتی ہے مگر وہ تار براستہ ہندوستان جاتے ہیں۔ایک شلنگ آٹھ پنس فی لفظ محصول ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی شرط ہے کہ اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ تار کا بل میں ڈیلیور (Deliver) بھی ہوگا یا کہ نہیں اور اگر ہوگا تو کتنے دن میں ان باتوں کی کوئی ذمہ داری نہیں۔یہ جواب لے کر مکان پر آیا ہوں۔حضرت کے حکم کی وجہ سے آج جلدی چلا گیا تھا یو نیفارم نہیں پہن سکا تھا معمولی سفید لباس میں چلا گیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کے لباس کو بہت زیادہ