سفر یورپ 1924ء — Page 189
۱۸۹ بتایا کہ بعض اخبارات کے ایڈیٹروں سے ایک ایک گھنٹہ گفتگو رہی ہے اور تمام حالات ان کو بتائے گئے ہیں مگر وہ اصل حصہ بات کا ان سے بھی رہ گیا کہ جو حضرت کا منشا تھا کہ ضرور اخبارات میں آجائے۔وہ یہ تھا کہ خود افغان گورنمنٹ نے آزادی کا اعلان کیا۔منصوری کے مقام پر ہمارے نمائندوں کو رو بر و گفتگو میں یقین دلایا کہ افغانستان میں اب آزادی اور امن ہے آپ بے شک اپنے آدمی بھیج دیں اور ہمیں اس مضمون کی چٹھیاں بھی آئیں مگر جب آدمی گئے تو ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔یہ غداری ہے اور بد عہدی۔حضور نے تمام مہذب گورنمنوں کو تاریں بھیجوائیں جن میں جاپان۔ترک اور مصری حکومتیں بھی شامل ہیں۔لیگ آف نیشنز کو بھی حضور نے تار د لایا۔ان تاروں کے لئے مضمون حضور نے خود تجویز کیا جس کا انگریزی ترجمہ مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بتغیر الفاظ کر کے پھر ( نقل مطابق اصل ) حضور کو سنایا۔حضور کا مضمون حسب ذیل تھا۔افغانستان گورنمنٹ نے ۳۱ /اگست کو احمد یہ مشنری مقیم کا بل کو - بوجہ مذہبی اختلاف کے سنگسار کر دیا۔احمدی مشنری نعمت اللہ خان کو اس سے پہلے کئی ہفتہ سے قید خانہ میں ڈال دیا گیا تھا اور افغان گورنمنٹ سے اس کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا مگر بجائے انصاف کی طرف لوٹنے کے اس نے اس کو سنگسار کر دیا۔اس سے پہلے افغان گورنمنٹ صرف اختلاف مذہبی کی وجہ سے ایک احمدی کو قتل اور ایک کو سنگسار کر چکی ہے۔اس تہذیب کے زمانہ میں ایسا ظالمانہ اور کمینہ فعل نہایت قابل نفرت ہے اور میں آپ کی گورنمنٹ سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ افغان گورنمنٹ سے اس کے متعلق پروٹسٹ کرے گی۔یہ جرم اور بھی زیادہ کمینہ ہو جاتا ہے جب کہ دیکھا جاتا ہے کہ افغان گورنمنٹ نہ صرف یہ کہ مذہبی آزادی کا اعلان کر چکی ہے بلکہ میرے دعوۃ و تبلیغ کے سیکرٹری کو جواب میں لکھ چکی ہے کہ وہ احمدیوں سے آئندہ کوئی تعرض نہیں