سفر یورپ 1924ء — Page 186
۱۸۶ کے کمرہ میں تشریف لے گئے ہیں۔حضور نے ملاقات کے بعد نماز عصر پڑھائی اور وہیں تشریف فرما ہو کر شہید مرحوم کا ذکر شروع فرمایا اور حکومت کابل کے لائق ملامت رویہ اور غداری پر اظہار رنج فرمایا۔فرمایا کہ ان لوگوں نے غداری کی ہے۔حریت اور مذہبی آزادی کا اعلان کر کے پھر ہمارے لوگوں کو خو د بلوا کر یہ دغا کی ہے۔فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو جلد سے جلد لنڈن کے شہر میں بڑے بڑے پوسٹروں کے ذریعہ سے موٹر کاروں پر اس ظلم اور بے قانونی کی تشہیر کی جائے۔اگر ممکن ہو تو بجلی کے ذریعہ لنڈن کے شہر کے او پر فضا میں اشتہار دیا جائے کہ اس زمانہ تہذیب میں بھی سلطنت کا بل میں اس قسم کے سنگ دلانہ اور وحشیانہ مظالم روا ر کھے جاتے ہیں۔اگر ممکن ہو تو سینما کے فلموں پر اس قسم کا اعلان لگوا یا جاوے جس کو تمام لنڈن کے لوگ پڑھیں اور حکومت کابل کے اس ظالمانہ فعل پر اظہار نفرت کریں۔فرمایا جوصورت بھی اس ظلم کے اعلان کی جائز طور پر ممکن ہو عمل میں لائی جائے اور تمام مہذب گورنمنٹوں کو تاریں دی جائیں۔امریکہ، فرانس، اٹلی وغیرہ تمام حکومتوں کو تار دیئے جائیں تا ان کو ان مظالم کی طرف توجہ ہو اور آئندہ کوئی صورت انسداد پیدا ہو سکے۔فرما یا ہر زبان اور ہر ملک کے اخبارات میں ہر قسم کے اخراجات برداشت کر کے تاروں کے ذریعہ سے اعلان کرایا جاوے۔اگر کسی کمپنی کے ذریعہ سے ممکن ہو تو اور بھی بہتر ہے۔فرمایا شہید مرحوم کے آخری خط کا فوٹو لے لیا جائے اور اس کو محفوظ رکھا جاوے۔چنانچہ احباب خود جا کر اور بعض فون پر ان امور اور ہدایات کی تعمیل کے لئے بعض لوگوں سے گفتگو کر رہے ہیں اور حضور نے مجھے حکم دیا کہ تار گھر سے پتہ لوں کہ آیا کا بل کو براہ راست تار جا سکتا ہے یا کہ نہیں ؟ سو میں اس وقت تار گھر میں کھڑا ہوں۔تار کی انچارج لیڈی بڑی محنت سے کام کر رہی ہے۔خود کچھ نہ کر سکی تو دوسری لیڈیوں سے مدد کی درخواست کی اور سب نے مل کر کوشش کی۔نقشہ لے آئیں کہ کابل کہاں ہے بتا دو۔بتا دیا گیا۔کتابوں کو بار بار تلاش کرتی رہیں کچھ پتہ نہ چلا تو اب بے چاری انچارج ہمارا لکھا ہوا کابل افغانستان انگریزی میں ہاتھ میں لے کر