سفر یورپ 1924ء — Page 185
۱۸۵ (Urgent) قادیان سے پہنچا جس نے اس حقیقت کو آشکار کیا اور اس ظلم کی کہانی کو ہم تک پہنچایا جو سرز مین کا بل میں ۳۱ / اگست ۱۹۲۴ء کے دن ایک خون ناحق کے رنگ میں واقع ہوئی ہے۔انا لله وانا اليه راجعون - فصبر جميل والله المستعان- انما اشكوا بثي وحزني الى الله ظالم مظلوموں کو قتل کر کے حق کو مٹانا چاہتے ہیں مگر یقین رکھیں کہ ان مظلوموں کے خون کا ایک ایک قطرہ لاکھوں طالبان حق پیدا کر کے رہے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک اس ظلم کی پاداش ظالم کو نہ دے لے اور حق کا پودا مضبوط اور توانا نہ کر دے اور مظلوم کے خون کا ہر قطرہ صحیح معنوں میں شہید کا قائمقام بن کر الیسا انتقام لے گا جس کی مثال دینوی انتقام میں نہ ملتی ہے نہ ملے گی۔حضور کی طبیعت کئی دن سے پہلے ہی کمزور اور نا ساز تھی۔سیر تک کو گھر سے نہ نکل سکتے تھے کہ پیچش کی شکایت بڑھ نہ جائے۔آج کے صدمہ نے حضور کے قلب پر کیا اثر کیا ہو گا اس کا علم اللہ ہی کو ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ بڑے ہی مہربان اور ہمدرد ہوتے ہیں۔غلاموں کے ایک کانٹے کی تکلیف ان کو دو بھر گزرتی ہے چہ جائیکہ ان کا ایک غلام ہاں بے گناہ اور معصوم خادم ، خادم دین ، ایسا خادم جس نے حق کے لئے جان تک کی پرواہ نہ کی اس کے قتل کی اچانک خبر حضور کو پہنچی حضور کے دل پر اور حضور کی صحت پر کیا اثر کرے گی۔اللہ رحم کرے۔اللہ کرم کرے اور حضور کی صحت و عافیت کو ترقی دے۔خود حفاظت کرے ہر تکلیف سے آمین۔حضور نے فوراً چوہدری فتح محمد خان صاحب کو اور مولوی عبدالرحیم صاحب در دکو جو کہ ابھی ابھی تار کٹنگ کے دفتر سے لے کر آئے تھے اخبارات کی طرف بھیج دیا ہے کہ تا وہ اخبارات والوں کو اس داستان ظلم سے آگاہ کریں۔مکرمی مولوی غیر صاحب بھی آئے ہیں ان کو بھی حضرت اقدس نے اخبارات کی طرف روانہ کر دیا ہے اور خود اسی وقت سے دروازہ بند کر کے کمرہ میں مصروف دعا ہیں۔قریباً ایک گھنٹہ بعد مذہبی کانفرنس ویمبلے کے وائس پریذیڈنٹ صاحب ملاقات کی غرض سے آئے ہیں ان کا وقت آج ملاقات کے لئے مقرر تھا اور حضور ان کی ملاقات کے واسطے لائبریری