سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 168 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 168

۱۶۸ نا ہموار بناتے اور پہاڑی نظارہ پیش کرتے ہیں مگر با وجود اس نشیب وفراز کے کہیں ایک چپہ بھر جگہ بھی ایسی نظر نہیں آتی جو بد نما ہو یا جس کو برکا ر چھوڑ دیا ہو۔کہیں کھیتی ہے تو کہیں سبزہ زار چرا گا ہیں قائم ہیں جن میں بھیڑ ، گائے اور گھوڑے آزاد اور کھلے کھاتے پیتے پھرتے ہیں۔ڈلہوزی کا لاٹوپ اور ڈائن کنڈ کی سبز گھاس کے نظارے اور پھولوں کے تختے کے تختے بھی نظر آئے جن میں سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچ کر موٹریں کھڑی ہو گئیں اور ہم نے دیکھا کہ ایک موٹر ہم سے پہلے وہاں موجود ہے۔ہم لوگ موٹروں سے اتر کر ایک میل کے قریب چڑھائی کے رستوں کو عبور کر کے ایک احاطہ میں پہنچے جو ہندوستانی سیاحوں کی یادگار میں قائم کیا گیا ہے اور جو ہندوستانی وفا اور بہادری اور قربانی کے جذبات کو تازہ کرتا ہے۔وہاں سنگ سفید کے چبوترہ پر ایک خوبصورت چھتر نما گول گنبد ۱۰،۸ فٹ کے قریب بلند کھڑا ہے۔فوٹوگرافر اور سنیما والے : اس جگہ تین فوٹو گرافر بڑے بڑے بھاری کیمرے لئے پہلے سے تیار کھڑے تھے جو بعد میں معلوم ہوا کہ بعض سنیما کمپنیوں کے ایجنٹ ہیں اور دو معمولی فوٹو گرافران کے علاوہ تھے۔جو نہی کہ ہم لوگ حضرت اقدس کے ساتھ ساتھ اس چبوترہ کی طرف بڑھے انہوں نے اپنی مشینوں کو حرکت دے کر چکر دینے شروع کئے جس کے نتیجہ میں خدا جانے کیا عمل کیا کہ ہم سب کی چلتی پھرتی تصویر میں ان کے ہاں بنتی چلی گئیں۔تقریر اور دعا: حضور اس یادگاری چبوترہ پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ یہاں ہم لوگ کس رنگ میں دعا کر سکتے ہیں۔طریق دعا اور غرض دعا کی تفصیل بتانے کے بعد حضور نے ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور تمام خدام نے بھی حضور کے ساتھ آمین کہی۔سینما کے فوٹو گرافر اور دوسرے بھی ہمارے گرد و پیش گھومتے اور اپنا کام کرتے رہے۔دعا کے بعد حضور نے اس چھتری کے گرد ایک چکر لگایا اور دوسری طرف سے ہو کر سیڑھیوں سے خدام سمیت اُتر کر ایک بنگلہ کی طرف گئے جہاں مسافروں کے واسطے چائے وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔چند منٹ ٹھہر کر حضور وہاں سے واپس اپنی موٹروں کے پاس آئے اور تمام ساتھیوں کو لے کر پھر برائیٹن کے شہر میں پہنچے۔عالیشان مکان: وہ بڑا عالیشان مکان جو ہندوستانی سپاہیوں کے علاج معالجہ اور مرہم پٹی کی