سفر یورپ 1924ء — Page 167
۱۶۷ مطلب اور سمجھ کی بات لکھی کیونکہ ان کی نظر آگے جاہی نہ سکی تھی۔دوسرے دن جمعہ تھا۔مسٹر شیلڈر خالد نے برائیٹین میں کوئی خاص انتظام کیا اور وہاں۔حضرت کے حضور بلاوا آیا چنانچہ ساڑھے دس بجے کے قریب حضور مع تمام خدام ہمرکاب ولوکل دوستوں کے وکٹوریہ سٹیشن سے سوار ہو کر برائیٹن کو روانہ ہوئے۔۶ ٹکٹ درجہ اول پل مین گاڑی ؟ کے تھے اور ا ا ٹکٹ درجہ سوم پل مین گاڑی کے تھے۔۴ دوست اپنے کرایہ پر ساتھ تھے جن میں سے دو اخبارات کے رپورٹر اور دو ہمارے دوست تھے اس طرح کل ۲۱ آدمی کا قافلہ وکٹوریہ اسٹیشن سے برائیٹن کو روانہ ہوا جہاں ۵۲ میل کا سفر طے کر کے گاڑی قریباً ۲ ۵ ہی منٹ میں جا پہنچی۔گویا ۶۰ میل کی رفتار سے چلی۔ولایت کی تھرڈ کلاس گاڑی : تھرڈ کلاس جس گاڑی کا نام ہے وہ دراصل ہمارے ملک کی سیکنڈ کلاس سے بھی بہتر معلوم ہوتی ہے۔اس سے فرسٹ کلاس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسی ہوگی۔سیکنڈ اور انٹر کلاس اس میں نہیں تھا مگر تھر ڈ کہنے کو تھرڈ ہے کرایہ میں ہمارے پنجاب کی فرسٹ کلاس کے قریب ہے۔اس ۵۲ میل سفر کے لئے تھرڈ کلاس کا کرایہ جو ہمیں پل مین گاڑی کے واسطے فی کس ادا کرنا پڑا،۱۴ شلنگ ۸ پنیس تھا گویا گیارہ روپے آمد رفت فی کس۔بٹالہ سے لاہور ۵۳ میل دور ہے۔اس طرح سے ہمارے ملک کی گاڑی کے حساب سے بٹالہ سے لاہور تک کا تھرڈ کلاس کا کرایہ ساڑھے پانچ روپے غالبا فسٹ کلاس کا ہوگا۔ایٹ ہوم کے موقع پر حضرت اقدس نے جو پیغام اخبارات کے نمائندگان کے واسطے لکھا تھا اس کی ایک نقل میں اس عریضہ کے ساتھ الگ شامل کرتا ہوں جس کے ساتھ ہی برائیٹن کے ایڈریس کی بھی نقل ہے جو حضور نے اہل برائین کے ایک مجمع کثیر کے سامنے اول خودار دو میں پڑھا اور بعد میں مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے انگریزی میں اس کا ترجمہ پڑھا جو انہوں نے چلتی گاڑی اور ہوتی باتوں میں کیا تھا۔حضور نے بھی یہ مضمون صبح ۸ بجے کے بعد ہی لکھنا شروع کیا اور سٹیشن پر پہچنے سے قبل ہی قبل مکمل فرما دیا تھا۔برائین کے اسٹیشن سے ہم لوگوں کو ۴ موٹروں کے ذریعہ سے ایک جنگل کے میدان میں پہنچایا گیا جو نہایت ہی دلکش اور خوبصورت سبزہ زار مخملی فرش گویا بنا دیا گیا ہے۔یہ علاقہ پہاڑی علاقہ کے مشابہ ہے مگر پہاڑ نہیں صرف مٹی کے تو دے ہیں جو زمین کو