سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 154 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 154

۱۵۴ منٹ باقی تھے چنانچہ وہی حضور نے لئے اور باہر تشریف لا کر فرمایا کہ ہمارا وقت اتنا تنگ ہو گیا تھا کہ مفصل گفتگو نہیں ہوسکی۔مبلغین کے بھیجنے اور مرکز تبلیغ بنانے کے متعلق اس سے گفتگو نہ ہوسکی۔باقی تفاصیل ملاقات ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو ئیں لہذا کچھ لکھ نہیں سکتا۔اس بے قاعدگی یا کوتا ہی کا حضرت اقدس کی طبیعت پر گہرا اثر تھا اور رنج تھا کہ کیوں حضور کو وقت سے پہلے اطلاع نہ دی گئی اور کیوں وزیر اعظم کے مکان تک پہنچنے کا انتظام پہلے سے ٹھیک معلوم نہ کر لیا گیا اور ساری انفارمیشن لے کر ٹھیک بند و بست ملاقات کا نہ کیا گیا۔گو حضور خاموش تھے مگر در حقیقت یہ خاموشی ہم سب کے لئے ایک تازیانہ تھی۔مکان پر پہنچ کر بد قسمتی سے ایک دوسرا واقع یہ پیش آگیا کہ کھانا لگایا گیا تو حضور کی سامنے کی پلیٹ میں تو مرغی یا چوزے کا شور با اور سالن تھا اور باقی پلیٹوں میں صرف سبزی تھی۔غلطی یہ ہوئی کہ چوزے کا شور با حسب معمول دستر خوان کی سب پلیٹوں میں نہ لگایا گیا سارا ایک ہی میں لگا دیا گیا یا باقی بچا کر الگ رکھ لیا گیا۔حضور کو اس نظارہ سے سخت تکلیف ہوئی۔حضور نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور کھانا چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔عرفانی صاحب بتاتے ہیں کہ جب ہم لوگ ڈیوٹی کا کام کر کے رپورٹ پیش کرنے کو گئے تو حضور کھانا چھوڑ کر کھڑے تھے اور چہرے پر غصہ کے آثار نمودار تھے۔پہلے نہ معلوم کیا باتیں ہو چکی تھیں مگر ہمارے پہنچنے پر چوہدری علی محمد صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ( مفہوم اور خلاصہ ) جب میرے سامنے مرغ کی پلیٹ رکھی گئی تھی تو کیوں باقی ساتھیوں کے واسطے نہیں رکھی۔میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔یہ کیسا کمینہ پن ہے اور میرے اخلاق پر کتنا بد نما دھبا آتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم باپ دادا سے بھی شریف تھے اور اب خود ہم پر بھی خدا تعالیٰ کے خاص فضل ہیں اور اس قسم کا کمینہ پن کبھی نہیں ہوا کہ ہمارے دستر خوان پر ہمارے کھانے کے لئے کچھ اور ہو اور ساتھیوں کے واسطے کچھ اور۔سلسلہ نے ہم کو اور بھی شریف بنا دیا ہے۔پس میں اس قسم کی جست کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔کھانا اُٹھا لو چنانچہ کھانا اُٹھا لیا گیا۔عرفانی صاحب بتاتے ہیں کہ ہم نے یعنی خان صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے چوہدری علی محمد صاحب سے اصل بات معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ کچھ غلطی ہی ہوگئی ہے۔آخر خان صاحب نے شیخ صاحب عرفانی سے کہا کہ آپ معافی کی درخواست کریں چنانچہ چند منٹ کے وقفہ کے بعد شیخ