سفر یورپ 1924ء — Page 155
۱۵۵ صاحب نے جب دیکھا کہ حضور نے اخبار دیکھنا شروع کر دیا ہے اور طبیعت کچھ دوسری طرف لگ گئی ہے عرض کیا کہ حضور اس قصور کو معاف فرما ئیں اور کچھ ناشتہ فرمالیں۔صبح بھی ناشتہ نہیں فرمایا اور ابھی حضور کی طبیعت میں بیماری کا اثر بھی باقی ہے۔آج مصروفیت بھی زیادہ ہے۔صبح سے حضور محنت کا کام کر رہے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو یہ یقین ہے کہ حضور ہم سب کو اپنے سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور ہماری خاطر حضور کو بہت زیادہ ملحوظ ہے اور یہ رنج بھی حضور کو صرف ہماری تکلیف کے خیال ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔واقعی غلطی ہو گئی ہے۔حضور رحم فرما کر معاف فرما دیں چنانچہ تھوڑی دیر تامل کر کے حضور نے ایسے لہجے میں فرمایا کہ جس میں عفو کی شان تو نمایاں تھی مگر وہ عزم کا رنگ لئے ہوئے تھا۔فرمایا کہ میں جس بات کا ارادہ کر لیتا ہوں اس کو چھوڑتا نہیں ہوں - إِلَّا ان يشاء الله شیخ صاحب فرماتے ہیں میں نے اس کے بعد کچھ کہنا سوء ادب سمجھا مگر اس خیال سے کہ حضور نے کل شام سے کھانا کھایا ہوا ہے کچھ کھا لیں تو اچھا ہے مبادا ضعف ہوکر بیماری پھر عو د کرے مگر حضور خاموش ہی رہے اور کوئی جواب پھر نہ دیا۔اڑھائی بجے کے وقت اِل جرنیل ڈی اٹالیا ایڈیٹر حضرت اقدس کی ملاقات کو آیا اور حضور سے مندرجہ ذیل سوالات کئے۔(س) آپ کی اٹلی کے باشندوں کے متعلق کیا رائے ہے؟ (ج) حضور نے فرمایا کہ میں بہت تھوڑا وقت یہاں ٹھہرا ہوں اور گزرتے گزرتے اتنے تھوڑے وقت میں میں نے جس بات کا اندازہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ اٹلی کے باشندوں میں انگریزوں کی نسبت ہمدردی کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے اور کہ وہ لوگ مشرقی روحانی امور کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور یہ باتیں مشرق و مغرب کے ملانے میں بہت کچھ مدد دیں گی اور چونکہ یہ بھی ہماری ایک غرض ہے اس وجہ سے ہمیں اس بات کی بہت خوشی ہے۔(س) مشرق اور مغرب کو آپس میں ملا کر امن قائم کرنے کا خیال عیسائی خیال ہے؟ ( ج ) حضور نے فرمایا نہیں بلکہ یہ تو خالص اسلامی خیال ہے اور حقیقت بھی یہی ہے مگر چونکہ آج کل کے مسلمانوں کی حالت کچھ ایسی گر گئی ہے کہ ان کے اخلاق اور اعمال و افعال سے یہ بات