سفر یورپ 1924ء — Page 116
117 جسے خشک کر کے بکرم کے نام سے چبایا جاتا ہے۔) صبح سے شام تک حضور لیٹے ہی رہے اور کمرہ سے باہر سوائے حاجت ضروری کے نہیں نکلے۔نمازیں بھی وہیں ادا کیں۔ہم لوگ بھی زیارت سے محروم رہے اور درحقیقت یہ تکلیف اور محرومی نا قابل برداشت ہے۔حضور نے جو مضمون دمشق سے روانگی کے دن " المقتبس“ کے ایڈیٹر کی خواہش پر لکھنا شروع کیا تھا مکمل ہو گیا اور اس کا ترجمہ عربی میں ہو چکا ہے۔اب انشاء اللہ برنڈزی سے ایڈیٹر کو بھیج دیا جاوے گا۔پہلے حضور کا منشا تھا کہ پورٹ سعید سے ہی بھیج دیا جاوے مگر وقت تنگ تھا نہ جا سکا اب انشاء اللہ روانہ ہو جائے گا۔مضمون حضور نے لکھا ہے مگر اس کو ایسے طرز میں لکھا ہے کہ گو یا اخبار والا خو دلکھ رہا ہے۔اس میں حضور نے اپنے مختصر سے حالات ابتدا سے اس زمانہ تک کے ایسے رنگ میں درج فرمائے ہیں گویا ایک مختصر سی سوانح عمری ہے۔اُردو انشاء اللہ حضور خود ہی روانہ فرما ئیں گے مجھے اجازت نقل نہیں ملی۔حضرت کو اس سفر میں بواسیر کی بھی شکایت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے حضور کو دوہری تکلیف ہے۔آج صبح ۸ بجے حضرت نے دروازہ کھولا۔ڈاکٹر صاحب عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ بواسیر کی سوزش کی وجہ سے حضور کو سخت تکلیف ہے۔اتنی خبر سُن کر ہی ڈاکٹر صاحب دوائی کے واسطے نیچے آگئے باقی حالات پوچھ بھی نہیں سکے۔صحت کے لئے دعا ئیں فرمائی جاویں۔ڈاکٹر جہاز کا خیال ہے کہ حضور سفر کو جاری نہ رکھیں اور کسی اچھے مقام پر پہنچ کر دو چار روز آرام کر کے علاج کرائیں۔صحت ہو جائے تو پھر سفر کو جاری کریں بصورت موجودہ سفر کو جاری رکھنا سخت مضر ہو گا۔آج تو حضور کو بواسیر کے مسئے میں سے پیپ بھی آئی ہے۔یہ تمام تکالیف حضور کو متواتر محنت اور سفروں کی کوفت اور دن رات کی متواتر تقریروں اور خوراک کی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔جماعت کی خاص دعا ئیں حضرت اقدس کے ساتھ ہونی از بس ضروری ہیں۔تاکید