صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 327
جواب انہوں نے کہا ر اس وقت جماعت کے خلاف سمت شورش کر یا ہے اور شدید نوریزی کا خطرہ ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرلیں یا پھر وہ عقائد اختیار کریں جو ہمیں گوارا ہوں اور نہ سخت خطرہ کہتے وفد نے کہا کہ پیغام دینے کا تو سوال ہی نہیں ہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ مخالفت بھی بعینہ ویسی ہی ہے جیسی جملہ نبیوں کے وقت میں ہوتی رہی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ یہ تجربہ ہوچکا ہے کہ الہی جماعت ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔آج بھی یہ نظارہ دہرایا جائے گا۔سوال ۱۹۳۲ کراچی میں وزیر اعظم سے گفتگو کے دوران حکومت کی طرف سے کون کون اصحاب موجود تھے ؟ جواب وزیر اعظم پاکستان۔سردار عبد الرب صاحب نشتر میاں مشتاق احمد صاحب گورمانی فضل الرحمن صاحب بنگالی۔سوال ۱۹۳۳ بوقت ملاقات خاص طور پر کس موضوع پر گفت گو ہوئی ؟ مسئلہ ختم نبوت پر اور حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے ثابت کیا جواب گیا کہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علی سلیم کو یقینا خاتم النبین مانتے ہیں۔سوال ۱۶۳۴ حضرت مصلح موعود سے سوال کیا گیا کہ اگر حکومت احمدی نام پر پابندی لگا رے تو آپ کیا کریں گے۔آپ کا جواب کیا تھا؟ جواب ہم احمدي۔۔۔۔کی بھ گرہ۔۔۔کہلانا شروع کر دیں گے کیونکہ ہمارا اصل نام ہے احمدی تو اس کے ساتھ صرف امتیاز کے طور پر شامل کیا گیا ہے یہ سوال ۱۶۳۵ فروری ۱۹۵۷ء میں برطانیہ نے مصر کو مطلع کیا کہ وہ نہر سویز سے اپنی فوجیں ہٹائے گا۔اس فیصلہ میں پاکستان کی کس عظیم شخصیت کی مساعی سر فہرست تھیں ؟ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے جواب