صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 22
سوال سے ۳۰ ابتدائے جوانی میں حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے دل میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے جو محبت تھی اس کے بارے میں کوئی گواہی بیان کیجئے جواب ایک تو وہ روایت ہے جو پچھلے سوال کے جواب میں تحریر کی گئی ہے) حضرت مولوی فتح الدین صاحب دھرم کوئی کی روایت ہے کہ میں حضرت اقدس آپ پر سلامتی ہو) کے پاس اکثر حاضر ہوا کرتا تھا اور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو قیام بھی کیا۔ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضور بہت بے قراری سے تڑپ رہے ہیں۔۔۔۔۔جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔۔۔صبح میں نے حضور سے اس واقعے کا ذکر کیا تو حضور نے فرمایا " اصل بات یہ ہے کہ جس وقت نہیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو جو معینیں اس وقت اسلام پر آ رہی ہیں ان کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔سوال ۳۱ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے نوجوان سے میں کیا معمولات تھے؟ جواب میں اپنا زیادہ تر وقت یاد الہی یا قرآن مجید کی تلاوت میں صرف کرتے یا دوسری دینی کتب کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔نمازوں کی پابندی کرتے۔درود شریف کثرت سے پڑھنے آپ کے ساتھی بعض چھوٹے بچے ہوتے جو آپ کے کھانے میں شریک ہوتے۔آپ خود کھانا بہت قلیل مقدار میں کھاتے، اکثر بجھنے ہوئے دانوں پر اکتفا کرتے۔اپنے کھانے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوں شروع ہی سے تنہائی پسند تھے اور نہائی کا زیادہ تر حصہ سمجھولیوں اور ضرورت مندوں کو دے دیتے۔سوال ۳۲ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے شوقی مطالعہ کے بارے میں آپ کے والد صاحب کیا فرماتے تھے ؟ جواب ، آپ کے والد صاحب آپ کو کہتے تھے کہ غلام احمد تم کو پتہ نہیں کہ سوچ کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں۔جب میں