صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 223
سوال ۹۷۵ بہت فضل لائلپور کے لئے کنبہ کی تحریرہ حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمائی، جو اج تک دیوار میں کندہ ہے تحریر کیا تھی ہے جواب الہی اس کی بنیاد اللہ تعالے کے تقویٰ پر ہو۔اور اس میں نمازیں پڑھنے والے ہمیشہ نیری رضا کو دوسری سب چیزوں پر مقدم رکھیں۔میں تہرے فضل سے امید رکھتے ہوئے اس بہت کا نام فضل رکھتا ہوں۔۔۔۔۔سوال ۹۷ ۱۵ جنوری ۳ ا ر کے زلزلہ نے بنگال سے پنجاب تک تباہی مچا ویر حضرت مسیح موعود را آپ پر سلامتی ہوا کی کون سی رویاد پوری ہوئی ہے جواب اپیل شاہ کو حضور نے رو یاد دیکھی بشیر احمد کھڑا ہے وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زینہ کہ اس طرف چلا گیا۔" حضرت مرزا الشيرا کے ایک اور تازہ نشان " کے نام سے رسالہ لکھنے سے خواب مکمل طور پہ پوری ہوگئی۔ر احمد صا سوال ۹۷۷ احمدیان بہار اس زلزلہ سے کسی قدر متاثر ہوئے ؟ جواب اس قیامت خیز زلزلہ میں صوبہ بہار کے احمدیوں کی جانیں معجزاز طور پر محفوظ رہیں۔سوائے ایک احمدی بھائی کے۔سوال ۹۷۸ مئی ۱۹۳۲ ء میں قادیان میں سکھوں کا اشتعال انگیز اجتماع ہوا جس میں سردار کھڑک سنگھ بھی شامل تھے حضور نے اس کا جواب کسی طرح دیا ؟ ایک مضمون لکھا۔راتوں رات چھپوایا اور تقسیم کر دیا گیا۔سردار کھڑک سنگھ جواب نے اگلے دن اعتراف کیا کہ اسے غلط اطلاعات دے کہ ذلیل کیا گیا ہے۔سوال ۹۷۹ حضور نے بہارستاد کس موقع پر فرمایا : میں نے ہمیشہ یہ دعا کی ہے اور متواتر کی ہے کہ اگر میکے لئے وہ اولاد مقدر نہیں جو دین کی خدمت کرنے والی ہو تو مجھے اولاد کی ضرورت نہیں ؟ جواب ۲ جولائی ۱۹۳۷ در حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اور مرزا منصور احمد صاحب کے نکاموں کے اعلان کے موقع پر اشاعت دین کے لئے افراد خاندان مسیح موعود کو بطور خاص تلقین فرماتے ہوئے مندرجہ بالا ارشاد فرمایا۔